رسائی کے لنکس

فلسطینیوں میں اسرائیلی شہریت کے حصول کا رجحان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بعض کے خیال میں مکمل شہریت سے انھیں بہتر ملازمتیں اور سہولتیں حاصل ہو سکیں گی جبکہ بعض اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

مشرقی یروشلم میں بسنے والے فلسطینیوں کی اسرائیلی شہریت حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ ایک عرصے سے یہ لوگ اس اقدام کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

فسلطینی طویل عرصہ سے اپنی ایک الگ ریاست کا خواب اور مشرقی یروشلم کو اس کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے آ رہے ہیں لیکن اس تنازع کے کسی فوری حل کی صورت نظر نہ آنے پر اکثر فلسطینیوں نے اسرائیل کی مکمل شہریت اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

شہریت حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔

تدریس کے شعبے سے وابستہ ایک فلسطینی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مجھے بہت برا محسوس ہو رہا ہے کیونکہ میں بحیثیت یروشلم کے رہائشی اور فلسطینی کے اس کا پاسپورٹ رکھنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔"

بعض کے خیال میں مکمل شہریت سے انھیں بہتر ملازمتیں اور سہولتیں حاصل ہو سکیں گی جبکہ بعض اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

مشرقی یروشلم کے ایک اور رہائشی غسان نوفل کہتے ہیں کہ "اگر کسی کے بچے ہیں، اخراجات ہیں، ایک گھر ہے اور ایک دکان ہے اور ایسا ہی اور کچھ تو شہریت ملنے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر وہ (اسرائیل) ہمیں پاسپورٹ دیتے ہیں اور ہم سے ہماری شناخت لے لیتے ہیں تو میرے نزدیک ایک ہی بات ہے۔"

یہ صرف سہولتوں کا معاملہ ہی نہیں ہے۔ یروشلم کے مضافات میں قائم فلسطینیوں کے بعض گھر شہر کے گرد دس سال قبل بنائی گئی دیوار کے باعث شہر سے جدا ہیں اور ان فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ کہیں وہ یروشلم کی سکونت بھی نہ کھو دیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" نے اسرائیلی وزارت داخلہ کے اعداد وشمار حاصل کیے ہیں جس کے مطابق سال 2012 اور 2013 کے درمیان پاسپورٹ کے لیے 1434 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 189 منظور کر لی گئیں جب کہ دیگر بہت سی ابھی تک کارروائی کے مراحل میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG