رسائی کے لنکس

پڑوسیوں سے کشیدہ تعلقات پاکستان کی 'خارجہ پالیسی کے لیے چیلنج'


پاکستان کے اپنے مشرقی ہمسائے بھارت اور مغربی پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ تعلقات گزشتہ ایک سال سے خراب چلے آ رہے ہیں اور بعض حلقوں کی طرف سے اسے ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک چیلنج بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

حزب مخالف خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے حکومت کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ملک میں کسی کُل وقتی وزیرخارجہ کے نہ ہونے سے پاکستان کے بیانیے کو بین الاقوامی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

تاہم حکومت اس تنقید کو مسترد کرتی ہے اور اتوار کو ہی لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اس تاثر کو مسترد کیا۔

"یہ غلط تاثر ہے کہ وزیرخارجہ نہیں ہیں۔ وزیراعظم کے پاس اختیار ہے کہ وہ پانچ مشیر رکھ سکتے ہیں جن کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا تو انھوں نے سرتاج عزیز کو (مشیر رکھا ہے) جو اسمبلی میں آتے ہیں سوالات کا جواب دیتے ہیں وہ مکمل طور پر ایک وزیر کا درجہ رکھتے ہیں۔"

وزارت خارجہ کا قلمدان وزیراعظم نواز شریف کے پاس ہی ہے اور خارجہ پالیسی سے متعلق امور مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے سپرد ہیں۔

ایاز صادق حال ہی اپنی سربراہی میں ایک پارلیمانی وفد لے کر افغانستان گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل بھی تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے لیکن اس پر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے دورہ پاکستان کی دعوت کو رد کیے جانے کا بیان درست نہیں اور ان کے بقول افغان صدر نے انھیں کہا تھا کہ پہلے وزیراعظم نواز شریف کابل کا دورہ کریں پھر وہ بھی پاکستان آئیں گے۔

دو روز قبل چمن کے مقام پر افغان فورسز کی طرف سے فائرنگ میں 11 پاکستانیوں کی ہلاکت سے پاک افغان تعلقات میں پہلے سے پائے جانے والے تناؤ میں اضافہ ہوا ہے جب کہ متنازع علاقے کشمیر کو منقسم کرنے والی عارضی حدبندی "لائن آف کنٹرول" پر بھی آئے روز پاکستان اور بھارت کی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور تجزیہ کار ڈاکٹر اعجاز خان کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

"افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔۔۔پھر توازن کی کمی رہی ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تاریخی طور پر پہلے امریکہ ہی سب کچھ تھا اور اب چین اور سی پیک ہوگیا ہے۔ تو ایک توازن کی ضرورت ہے۔"

وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)
وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

دفاعی امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود کے نزدیک پاکستان کا خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنا از حد ضروری ہے اور اس کے لیے ایسی خارجہ پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو اس مقصد کے لیے حصول کے لیے کارگر ثابت ہو۔

"تعلقات کو بہتر کرنا ضروری ہے ورنہ جو بھی اقتصادی و معاشی ترقی پاکستان میں ہوگی وہ سکیورٹی کی نظر ہو جائے گی اگر بیرونی خارجہ پالیسی کامیاب رہے اور ان ملکوں سے تعلقات بہتر رہیں تو آپ دیکھیں گے کہ اندرونی سکیورٹی بھی بہتر ہوگی۔"

وزیراعظم نوازشریف یہ کہتے آئے ہیں کہ ان کی حکومت ہمسایوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر مبنی تعلقات کی پالیسی پر گامزن ہے اور تمام تصفیہ طلب معاملات کو بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنا چاہتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG