رسائی کے لنکس

سالوں گزر جانے کے بعد آج بھی کراچی میں گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں کا مسئلہ وہیں کا وہیں ہے!

عمران صاحب اپنے دفتر میں بیٹھے ریڈیو سن رہے تھے کہ یہ ہی اُن کا کام تھا۔ کراچی کے ایک ایف ایم ریڈیو کی نشریات کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے وہ ہر وقت اپنے چینل کے پروگرام سنتے رہتے اور مختلف شو ز کرنے والوں کے کام کی تعریف اور تنقید کے دوران کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہتے۔

آج کل وہ بہت پریشان تھے، کیونکہ سارا سارا دن بیٹھے رہنے اور نمکو اور بسکٹ کے ساتھ کولڈ ڈرنک پیتے رہنے کی وجہ سے اُن کا وزن اب پہلے سے بھی بہت زیادہ ہو چکا تھا۔

ہر ہفتے اُن کے چینل سے ایک صحت عامہ کا شو نشر ہوتا تھا جِس میں ’جنک فوڈ‘ کے نقصانات اور سبزیوں کے فوائد پر اکثر بات ہوتی تھی اور اب پہلی بار اُن پر اِس شو کا اثر ہونا شروع ہوا اور انھوں نے مضر صحت چیزیں چھوڑ کر کچی سبزیوں کا سلاد استعمال کرنا شروع کردیا ۔

ابھی دو چار دن ہی گزرے تھے کہ اس ہی ہیلتھ شو میں کراچی کے علاقے ملیر میں گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں اور ان کے ممکنہ مضر صحت اثرات کے ذکر نے انھیں اتنا وزنی ہونے کے باوجود ہلا کر رکھ دیا اور اُنھوں نے اِس وقت ریڈیو اسٹیشن پر موجود تمام لوگوں سے اس مسئلے پر کام کرنے کے لیے کہا، ’بات نکلی تو پھر دور تلک گئی‘ ۔

کراچی میں مختلف شوز میں اِس مسئلہ پر بات ہوئی اور ایسی سبزیاں نہ کھانے سے لے کر اپنی سبزیاں آپ اُگانے تک بات ہوئی۔

​ سالوں گزر جانے کے بعد آج بھی کراچی میں گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں کا مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں بچوں کے ڈاکٹروں کی تنظیم کے سربراہ اور پیٹ اور آنتوں کے امراض کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن نے کہا کہ گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں کو کچا کھانے سے ان پر لگے جراثیم انسان کو بیمار کر سکتے ہیں۔ لیکن، پکانے سے یہ جراثیم مر جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ گٹر کے پانی میں موجود صنعتی فضلہ ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف کارخانوں سے نکلنے والے فضلے میں الگ الگ قسم کے کیمیکلز ہوتے ہیں اور ہمارے ہاں ان کیمیکلز کا اثر زائل کئے بغیر اسے گٹر میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں کے انسانی جسم پہ مضر اثرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ گٹر کے پانی میں کون کون سے کیمیکلز موجود ہیں۔ ان کیمیکلز سے دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر تک ہو سکتا ہے۔

گٹر کے پانی سے اگائی جانے والی سبزیاں استعمال نہ کرنے کے لئے ان کو پہچاننا ضروری ہے اور اس حوالے سے کراچی کے علاقے گلبرگ میں سبزی بیچنے والے فیضان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایک قسم کی سبزی نہیں جس سے بچا جائے کیوں کہ ہر قسم کی سبزی گٹر کے پانی سے اگائی جاتی ہے۔ بس آپ کسی بہتر اور بھروسے کی جگہ سے سبزی لیں اور جس سبزی کا رنگ غیر معمولی گہرا اور چمکدار ہو اس سے دور رہیں کیونکہ وہ گٹر کے پانی والی ہو سکتی ہے۔

گٹر کے پانی سے اگائی گئی سبزی اور بڑہتی ہوئی مہنگائی سے بچنے کے لئے اپنی سبزی آپ اگانے کے مشورے پہ بات کرتے ہوئے کراچی کے مسائل میں لوگوں کی دلچسپی پیدا کرنے اور لوگوں کو معلومات فراہم کرنے والے ادارے اربن ریسورس سینٹر کے اعلیٰ عہدیدار زاہد فاروق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کراچی میں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا وہ سبزیاں اگانے کا پانی کہاں سے لائیں ہاں اگر گٹر کا پانی صاف کر کہ باغبانی میں استعمال کے قابل بنانے والے گٹر باغیچہ، محمود آباد اور ماری پور روڈ پر موجود پلانٹس پوری طرح کام کریں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

کراچی کے وہ علاقے جہاں پانی کی قلت نہیں ان کے لئے فیڈرل بی ایریا میں پودوں کی نرسری کے مالک فرحان کا مشورہ ہے کہ وہ گملوں یا کیاریوں میں آج کل ٹماٹر، پیاز، آلو، مٹر ، گاجر ، پالک اور مرچ جیسی سبزیاں آسانی سے اگا سکتے ہیں جس کے لئے وہ ایسی جگہ پر جہاں دھوپ آتی ہو مٹی کو نرم کر کہ اس میں بیج دبا کر ایک دن چھوڑ کر پانی دیں اور جن لوگوں کو جگہ کا مسئلہ ہو وہ بانس کے فریم پر پلاسٹک کی تھیلیوں میں عمودی طور پر یہ پودے لگا سکتے ہیں اورگھر کی تازہ اور صاف سبزیاں مفت کھا سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG