رسائی کے لنکس

جنوبی بحیرہ چین میں جاری کثیر ملکی فوجی مشقوں میں تعطل


فائل فوٹو

فرانس، برطانیہ، جاپا ن اور امریکہ ان فوجی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں جن کا مقصد بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ جہاز رانی کی حمایت کرنا اور خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کا مقابلہ ہے۔

جمعے کے روز گوام میں فرانسیسی قیادت کی ایک بری اور بحری فورس نے جس میں جاپان برطانیہ اور امریکہ کےدستے شامل تھے ، فوجی تربیتی مشقیں اس وقت ختم کر دیں جب فرانس کا ایک طیارہ بردار جہاز خشکی پر چڑھ گیا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ مشقیں دوبارہ کب شروع کی جائیں گی۔

امریکی بحریہ کے جوائنٹ ریجنل چیف آف سٹاف کیپٹن جیف گریمز کہتے ہیں کہ ہمارے ابتدائی اندازے کے مطابق اس حادثے میں جہاز کے دو پنکھوں کو نقصان پہنچا ہے۔ عملے کے کسی شخص کو کوئی گزند نہیں پہنچا اور پٹرول کا کوئی اخراج نہیں ہوا اور نہ ہی ماحول کو کسی طرح کا نقصان پہنچا۔

فرانس، برطانیہ، جاپا ن اور امریکہ ان فوجی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں جن کا مقصد بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ جہاز رانی کی حمایت کرنا اور خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کا مقابلہ ہے۔

کیپٹن جیف گرمز کہتے ہیں کہ اس مخصوص تربیت کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کثیر ملکی ہے ۔ اس لیے ہم صرف امریکی فورسز کو ہی تربیت نہیں دے رہے، بلکہ خطے میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ کام کرنا سیکھ رہے ہیں اس کا مقصد خطے میں اپنی شراکت داری کومزید بڑھانا ہے۔

چین کا کہنا ہے سمندر میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر کا شہری مقاصد کے لیے ہے، خاص طورپر بحری جہازوں کے تحفظ کےلیے جو ہرسال اس بحری راستے سے تقربیاً 5 ٹریلین مالیت کے سامان کی ترسیل کرتے ہیں۔

چین ان الزامات کو بھی مسترد کرتا ہے کہ وہ جنوبی بحیرہ چین میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہاہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس بحری راستے میں آزادی اور جہازرانی برقرار رکھنے کا خواہش مند ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG