رسائی کے لنکس

گوانتانامو فوجی کمیشنوں کے مقدمے کی سماعت: گواہ کا نام افشاء کرنے پر چار نامہ نگاروں پر پابندی عائد

  • الپسین

گوانتانامو بے کا فوجی قیدخانہ

گوانتانامو بے کا فوجی قیدخانہ

پینٹے گان نے چار رپورٹروں پر گوانتانامو کے قید خانے میں مبینہ دہشت گردوں پر ملٹری کمیشنوں کے سامنے مقدموں کی سماعت کوَر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے کیوں کہ اُنھوں نے ایک گواہ کا نام افشاء کر دیا تھا۔ لیکن اُس گواہ کا نام اور مقدمے میں اسکے رول کے بارے میں سب کو پہلے ہی سے پتہ تھا۔ متعلقہ خبر رساں تنظیموں اور پریس کی آزادی کے لیے جد وجہد کرنے والے لوگوں نے اس پابندی پر شدید تنقید کی ہے۔

اس ہفتے گوانتانامو میں کینیڈا کے شہری عمر خضر کے کیس کی سماعت ہوئی ۔ آٹھ برس پہلے افغانستان میں گرفتاری کے وقت اس کی عمر پندرہ برس تھی۔ اس پر القاعدہ کا رکن ہونے، ایک معرکے کے دوران امریکی فوج کے ایک سارجنٹ کو ہلاک کرنے، اور سڑک کے کنارے بم لگانے میں مدد دینے کے الزامات ہیں ۔ سماعت کے دوران، اس کے وکیلوں نے دعویٰ کیا کہ جب اسے شروع میں افغانستا ن میں بگرام کے ہوائی اڈے پر زیرِ حراست رکھا گیا تھا، اس وقت اس کے ساتھ بد سلوکی کی گئی تھی۔انھوں نے پوچھ گچھ کرنے والے ایک شخص کو گواہ کے طور پر طلب کیا جسے قیدیوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے الزام میں سزا ہو چکی ہے ۔ اس شخص نے کہا کہ اس نے جسمانی طور پر کبھی خضر پر زیادتی نہیں کی لیکن اس نے تسلیم کیا کہ پوچھ گچھ کے دوران اس کا لہجہ بہت سخت تھا اور اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے تعاون نہ کیا تو اس کے ساتھ بد فعلی کی جا سکتی ہے ۔

پوچھ گچھ کرنے والے اس شخص کانام وہ سب لوگ جانتے ہیں جو شروع سے اس کیس سے باخبر رہے ہیں۔اس نے ایک کینیڈین رپورٹر کو انٹرویو دیا جس نے بعد میں خضر کیس کے بارے میں کتاب لکھی۔ لیکن رپورٹروں کو ملٹری کمیشنوں کے سامنے پیش ہونے گواہوں کی شناخت کرنے کی اجازت نہیں ہے ، اور جج نے خاص طور سے کہا تھا کہ وہ اس کیس میں ایسا نہ کریں اگرچہ اس شخص کا نام پہلے شائع ہو چکا تھا ۔ چار رپورٹروں نے جج کی ہدایات کی خلاف ورزی کی اور ان پر مستقبل میں ملٹری کمیشنوں کے مقدمے کور کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔

پینٹے گان کے ایک ترجمان، کرنی ڈیوڈ لپان نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ‘ان سب کے پاس قواعد و ضوابط کی کاپیاں موجود تھیں۔ سب کو ان کا علم تھا۔ یہ سب مسلمہ ضابطے ہیں ۔ دو دِن پہلے جج نے عدالت میں یاد دہانی کی تھی کہ گواہوں کے نام اور ان کی شناخت کو راز میں رکھنے کے حکم کا اطلاق ان پر ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود، انھوں نے یہ نام شائع کر دیے۔’

جِن رپورٹروں پر پابندی لگائی گئی ہیں ان میں اخبار ٹورنٹو اسٹار کی مِشیل شیفرڈ ہیں جنھوں نے خضر کے بارے میں کتاب لکھی ہے، گوانتانامو کی ایک انتہائی تجربے کار رپورٹر، اخبار میامی ہیرلڈ کی کیرول روزینبرگ، ٹورنٹو گلوب اور میل کے پال کورنگ، اور کینیڈا کے کین ویسٹ اخبارات کے سٹیفن ایڈورڈز شامل ہیں۔ اخبارات کے عہدے داروں اور شہری آزادیوں اور پریس کی آزادی کے گروپوں نے پابندی پر اعتراض کیا ہے ۔ امریکہ کی سوِل لبرٹیز یونین نے اس اقدام کو احمقانہ اور انتہائی سخت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی اطلاعات کو دبانے سے جو پہلے ہی سے سب کے علم میں ہیں، حکومت کا کوئی جائز مقصد پورا نہیں ہوتا۔

رپورٹرز کمیٹی فار فریڈم آف دی پریس کی ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر، لوسی داگلش نے کہا کہ ان رپورٹروں پر پابندی سے بعض انتہائی تجربے کار اور مشاق رپورٹرز ملٹری کمیشنوں کے کام کو کوَر نہیں کر سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ رپورٹرز برسوں سے ملٹری کمیشنوں کے ضابطوں کی پابندی کرتے رہے ہیں، لیکن انھوں نے تسلیم کیا کہ اس معاملے مِیں انھوں نے خطرہ مول لیا۔ ان کے الفاظ ہیں:‘آپ کسی جج کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو خطرہ مول لیتے ہیں چاہے جج کا حکم کتنا ہی غیر معقول کیوںنہ ہو۔جج ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ معاملات ا ن کے کنٹرول میں رہیں۔ چنانچہ جب آپ براہ راست ان کے حکم کی خلاف ورزی کرتےہیں تو یہ ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہوتا ہے ۔’

پینٹے گان میں کرنی لپان نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ رپورٹروں نے کوئی مخصوص معلومات افشا کر دی تھیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کے انھوں نے مسلمہ ضابطوں کی خلاف ورزی کی ، خاص طور سے جب جج نے انہیں سرزنش کر دی تھی۔ان کے الفاظ ہیں: ‘یہ ایک مسلمہ طریقہ ہے کہ بعض ضابطوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے، وجہ کچھ ہی کیوں نہ ہو،چاہے سیکورٹی ہو، آپریشنل سیکورٹی ہو، یا ذاتی امور ہوں۔ آپ سب انہیں مسلمہ ضابطوں کے تحت کام کر تے رہے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ان کی خلاف ورزی کرنے کے بعض نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ اس کیس میں ایسا ہی ہوا ہے۔’

بعض اخبارات نے جن کے رپورٹروں پر پابندی لگائی گئی ہے ، کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف پینٹے گان کے اعلیٰ عہدے داروں کو اپیل کریں گے۔ ادھر پینٹے گان نے کہا ہے کہ یہ اخبارات خضر کے کیس اور ملٹری کمیشن کی کارروائیوں کو کور کرنے کے لیے دوسرے رپورٹرز بھیج سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG