رسائی کے لنکس

گوئٹے مالا کے ایک سابق سپاہی کو 1982ء میں 201 افراد کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے جرم میں 6060 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے پیڈرو پی منٹیل کو 201 مقتولین میں سے ہر ایک کےقتل پر 30 سال قید کی سزا دی ہے جب کہ اسے مزید 30 سال قید انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے کی وجہ سے بھگتنی پڑے گی۔

سزا کی طوالت بظاہر علامتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ گوئٹے مالا کے قانون کے تحت کسی بھی شخص کو 50 سال سے زیادہ مدت کے لیے جیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔

پی منٹیل کو اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے گذشتہ سال امریکہ سے گوئٹے مالا لایا گیا تھا۔

مزید چار فوجیوں کو بھی یہی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

دسمبر 1982ء میں ہلاکتوں کا یہ ہولناک واقعہ اس وقت ہواتھا جب درجنوں فوجیوں نے ہتھیاروں کی تلاش میں ڈوس ایریس نامی ایک گاؤں پر چھاپہ ماراتھا۔

فوجیوں نے دیہاتیوں کو ایک گہرے کوئیں میں پھینکنے سے قبل انہیں شدید زدوکوب کیاتھا۔

یہ قتل عام ملک میں 36 سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران ہواتھا جس کا اختتام 1996ء میں ہوا۔

XS
SM
MD
LG