رسائی کے لنکس

گوئٹے مالا کے لوگوں پر کیے گئے جنسی طبی تجربات پر امریکہ کی معافی


گوئٹے مالا کے لوگوں پر کیے گئے جنسی طبی تجربات پر امریکہ کی معافی

گوئٹے مالا کے لوگوں پر کیے گئے جنسی طبی تجربات پر امریکہ کی معافی

امریکہ نے 70 سال قبل گوئٹے مالا کے شہریوں پر کیے گئے ان طبی تجربات پہ معافی مانگ لی ہے جن کے ذریعے مقامی افراد کو جنسی اختلاط سے منتقل ہونے والی بیماریوں میں جان بوجھ کر مبتلا کیا گیا تھا۔

جمعے کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اوروزیر برائے ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسزکیتھلین سیبلیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں 1940 کی دہائی میں کیے گئے تجربات کو "قابلِ مذمت" اور "غیر اخلاقی" قرار دیتے ہوئے ان میں امریکہ کے کردار پر معافی مانگی گئی ہے۔

امریکہ میں صحتِ عامہ سے متعلق حال ہی میں دریافت ہونے والی دستاویزات میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ایک تجرباتی تحقیق کیلیے 1946 سے 1948 کے درمیان گوئٹے مالا میں جنسی خدمات فراہم کرنے والے افراد کو جنسی طور پہ منتقل ہونے والی بیماریوں کا دانستہ شکار کرکے انہیں مقامی فوجیوں اور جیلوں میں قید افراد کے ساتھ اختلاط پر مجبور کیا گیا تھا۔

مذکورہ تحقیق کے لیے مالی معاونت امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت نے فراہم کی تھی جبکہ اس کے نتائج کبھی منظرِ عام پر نہیں لائے گئے۔

دونوں امریکی وزراء نے اپنے بیان میں عوامی صحت کے پروگرام کی آڑ میں کیے جانے والے مذکورہ تحقیقی تجربات کو "انسانیت سے گری ہوئی حرکت " قرار دیتے ہوئے متاثر ہونے والے تمام افراد سے معافی طلب کی ہے۔

XS
SM
MD
LG