رسائی کے لنکس

متاثرین کے لیے بی پی 20ارب ڈالر کا فنڈ قائم کرنے پر تیار


صدر اوباما اور نائب صدر جو بائڈن وائٹ ہاؤس میں بی پی کے عہدیداروں سے خلیج میں تیل کے اخراج پر بات کرتے ہوئے

صدر اوباما اور نائب صدر جو بائڈن وائٹ ہاؤس میں بی پی کے عہدیداروں سے خلیج میں تیل کے اخراج پر بات کرتے ہوئے

اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ برٹش پٹرولیم تیل کمپنی ،خلیج میکسیکو میں تیل کے اخراج سے لوگوں کے روزگار پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے دائر دعووٴں کی ادائیگی کے لیے 20بلین ڈالر کا فنڈ قائم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے۔

اوباما انتظامیہ کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ برٹش پٹرولیم تیل کمپنی ،خلیج میکسیکو میں تیل کے اخراج سے لوگوں کے روزگار پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے دائر دعووٴں کی ادائیگی کے لیے 20بلین ڈالر کا فنڈ قائم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے۔

یہ بات بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما کی بی پی کے عہدے داروں سے ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس میں صدر نے ایک آزادانہ فنڈ کی تشکیل پر زور دیا۔ فنڈ کی سربراہی امریکی وکیل کینتھ فائن برگ کریں گےجو11ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں سے متاثرہ خاندانوں میں ادائیگیوں کی نگرانی کر چکے ہیں۔

منگل کی شام کیےگئے قوم سے اپنے خطاب میں صدراوباما نے کہا تھا کہ وہ برٹش پٹرولیم سے کہیں گے کہ کمپنی کی لاپرواہی سے جن لوگوں کو نقصان پہنچا ہے اس کے ازالے کے لیے جو بھی وسائل درکار ہوں وہ اُنھیں فراہم کرے۔

اِس سانحے کی ابتدا اِس سال 20اپریل کو ریاست لوزیاناکے ساحل سے پرے ایک آئل رِگ پر دھماکہ ہونے سے ہوئی تھی۔ صدر کا کہنا تھا کہ تیل کا اخراج ماحولیات کے لیے ملکی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے۔

صدر کے خطاب کے بعد برٹش پٹرولیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہےکہ وہ خلیج میں تیل کے اخراج کی صفائی اور متاثرین کی مدد کے لیے صدر اوباما کے اہداف پورے کرنے میں شریک ہوگی۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق تباہ ہونے والے زیر آب کنوئیں سے روزانہ 35000 سے 60000 بیرل تک تیل پانی میں شامل ہورہاہے۔

خلیج میکسیکو میں خارج ہونےوالا تیل ریاست لوئی زیانا سے فلوریڈا کی ساحلی پٹی تک پہلے ہی پہنچ چکاہے۔جس سے آبی حیات شدید متاثر ہورہی ہے اور اس علاقے میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہوگئی ہیں۔

اپنی تقریر کے دوران صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ کو برسوں تک تیل کے اخراج کے اثرات پر قابوپانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی۔ انہوں نے مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لیے امریکی عوام سے ماحول دوست توانائی کی سمت آگے بڑھنے کی اپیل کی ۔

تاہم ری پبلکینز نے صدر پراس سانحے کا سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام لگاتے ہوئے ان پر نکتہ چینی کی۔ری پبلکین نیشنل کمیٹی کے چیئر مین مائیکل ا سٹیل نے کہا کہ ملک کو اس سانحہ سے نکالنے کی قیادت کرنے میں صدر نے اہلیت کا ثبوت نہیں دیا۔

صدر اوباما نے نیوی کے سیکرٹری اور مس سسی پی کے سابق گورنر رے میبوس کو مقامی آبادیوں، کاروباری افراد ، ماہی گیروں اور تیل کے اخراج کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والے آبائی امریکیوں کی مدد سے خلیج میکسیکو کی بحالی کے لیے ایک طویل المدت منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

صدر اوباما نے تیل کا اخراج شروع ہونے کے بعد اس ہفتے خلیج کے متاثرہ علاقوں کا چوتھا دورہ کیاتھا۔ انہوں نے اپنے خطاب فلوریڈا سے واپسی کے چند گھنٹوں کے بعد کیا ،جہاں انہوں نے ساحلی علاقوں کا دورہ کیا اور صفائی کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں پر بات چیت کی ۔

ناقدین اوباما انتظامیہ پر اس سانحہ سے نمٹنے میں سست روی کا الزام لگاچکے ہیں۔

ایسوشی ایٹڈ پریس کے ایک تازہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت(52 فی صد) کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سانحہ کی زیادہ ذمہ داری بی پی پر عائد ہوتی ہے لیکن خلیج میکسیکو میں صدر اوباما جس طرح تیل کے اخراج کے مسئلے سے نمٹ رہے ہیں، وہ اس کی حمایت نہیں کرتے۔

XS
SM
MD
LG