رسائی کے لنکس

سچ تو یہ ہے کہ ان ’گلو بٹوں‘ کو ہم نے اور ہمارے معاشرے نے خود تراشا ہے، ان کی آبیاری کی ہے اور اب یہ ’گلو بٹ‘ اس حد تک ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں پکڑنا اور ان کا خاتمہ کرنا خود ہمارے بس میں بھی نہیں رہا۔۔۔

گذشتہ چند دنوں میں ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کی بدولت ’گلو بٹ‘ کو جو پذیرائی اور شہرت حاصل ہوئی ہے وہ ہر خاص و عام کا نصیب نہیں۔۔۔ بھلا بتائیے، تین روز پہلے تک آپ اور میرے جیسے لوگ ’گلو بٹ‘ کا نام تک جانتے تھے؟ کیا ہمیں معلوم تھا کہ لاہور کی گلیوں میں ایک ایسا شیر دل بھی بستا ہے جو دن کی روشنی میں، عین اس وقت جبکہ پولیس اور شہریوں کے درمیان تصادم ہو رہا ہو، ماڈل ٹاؤن جیسے علاقے میں ایک بڑے گنڈاسے کی مدد سے سڑک پر کھڑی گاڑیوں کو تہس نہس کر دے گا، جن کا اس پورے معاملے میں کوئی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔

میڈیا نے بھی سنسنی اور ہر غیر اہم خبر کو اہم بنانے کا کاروبار اتنے اچھے طریقے سے چلا رکھا ہے کہ منہاج القرآن کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم، بے گناہ شہریوں کی ہلاکت، طاہر القادری کا اپنے کارکنوں سے خطاب، سب کچھ جیسے گلو صاحب کے سامنے ہیچ رہ گیا۔۔۔ صبح سے رات اور رات سے اگلی صبح تک مختلف بھارتی گانوں کے پس منظر میں گلو بٹ کی جانب سے گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے مناظر چلتے رہے۔۔۔ محض ایک ہی دن میں پورے پاکستان کے منہ پر یہی سوال تھا کہ یہ ’گلو بٹ‘ کون ہے؟

کسی نے گلو بٹ کو مولا جٹ کا شاگرد قرار دیا، کسی نے گلو بٹ کو پاگل کہا، کچھ نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اس کی وابستگی پر مہر لگائی۔۔۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔ اخباری اطلاعات کے مطابق گلو بٹ پولیس کا مخبر ہے جسے عرف ِعام میں ’خبری‘ بھی کہا جاتا ہے اور لاہور کے مختلف علاقوں میں گھروں اور فلیٹوں پر قبضہ کرنے والے مافیا کا کارندہ بھی ہے۔۔۔ اور شاید انہی خصوصیات کی بنا پر گلو بٹ کو ’شیر ِپنجاب‘ بھی کہا جاتا ہے۔۔۔

وہی شیر ِپنجاب، جو پولیس کے سامنے گاڑیوں کو روندتا آگے بڑھ رہا تھا اور پولیس اسے داد و تحسین سے نواز رہی تھی۔۔۔ چند پولیس والوں کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ آگے بڑھ کر اس کارنامے پر گلو بٹ کو چوم ہی ڈالیں۔۔۔

ہمارے جیسے ملکوں کی پولیس کے لیے ’خبری‘ ویسے ہی لازم و ملزوم ہے جیسے پنجابی فلموں کے ہیرو کے لیے گنڈاسا۔۔۔ جی ہاں، وہی گنڈاسا جس کی مدد سے گلو بٹ نے سڑک پر کھڑی گاڑیوں کو توڑا۔۔۔ مگر شاید پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ گاڑیوں کے شیشے توڑنے والے کو نہ صرف میڈیا پر دکھایا گیا بلکہ اسے گرفتار کرکے اس پر مقدمہ بھی درج کر دیا گیا۔

اخباری خبروں کے مطابق موصوف کا فرمانا ہے کہ عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب سے فائرنگ کے بعد اشتعال آنے پر انہوں نے توڑ پھوڑ شروع کی۔ جمعرات کی صبح جب گلو بٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہاں موجود وکلاء اور شہریوں نے گلو بٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی ویسی ہی ’مرمت‘ کی جیسی گلو بٹ نے ماڈل ٹاؤن میں گاڑیوں کی ’مرمت‘ کی تھی۔۔۔

الله جانے گلّو بٹ کے اس ڈرامے کا انجام کیا ہوگا۔۔۔ مگر ایک بات تو طے ہے وطن ِعزیز میں تماشوں کی کمی نہیں۔۔۔ اگر ایک گلو بٹ پکڑنے سے ان ہزاروں ’گلّو بٹوں‘ کا قلع قمع کیا جا سکتا، جو ہمارے ارد گرد دندناتے پھرتے ہیں تو کیا ہی بات تھی۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ ان گلو بٹوں کو ہم نے اور ہمارے معاشرے نے خود تراشا ہے، ان کی آبیاری کی ہے اور اب یہ ’گلو بٹ‘ اس حد تک ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں پکڑنا اور ان کا خاتمہ کرنا خود ہمارے بس میں بھی نہیں رہا۔۔۔

سو باتوں کی ایک بات تو یہ ہے کہ گلّو بٹ ایک انسان کا نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے۔۔۔ جب تک کسی معاشرے میں قانون کی عملداری نہیں ہوگی اور پولیس کا قبلہ درست نہیں کیا جائے گا، ایسے تماشے چلتے رہیں گے اور ہمارا منہ چڑاتے رہیں گے۔۔۔ آج ہمارے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر جس گلو بٹ کے چرچے ہیں، کل کو کوئی اور ان سے زیادہ من چلا گلو بٹ ان کا جانشین بن جائے گا اور میڈیا اس کے پیچھے سرپٹ بھاگنا شروع کر دے گا۔۔۔ کیونکہ یہی ہماری افسوسناک حقیقت ہے۔۔۔
XS
SM
MD
LG