رسائی کے لنکس

مسائل تو ہر جگہ ہی ہیں اور کافی حد تک ایک جیسے ہی ہیں۔ افرنگ کا ہر، ذرہ، فردوس کے مانند تو ہو سکتا ہے لیکن قتل و غارت گری، کرپشن، مذہبی انتہا پسندی، سیاسی تعطل اور دیگر کئی شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک اپنے ترقی پذیر اور غریب بھائی بہنوں سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں۔

پاکستانی معاشرے کے کم و بیش وہی مسائل ہیں جو کہ عموماً ہر انسانی معاشرے کو اس دورِ تیز رفتار میں درپیش ہیں۔ کرپشن، فراڈ، قتل و غارت گری، ایک عالمِ نفسا نفسی!

پاکستان میں غربت اور افلاس نے ان برائیوں کو مزید سنگین اور نمایاں کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر سیاسی افرا تفری اور ملک کے مخصوص جغرافیے نے پوری کر دی۔ کچھ اپنی ضروری اور غیر ضروری جنگیں اور کچھ بیگانوں کی شادی اور بربادی میں عبداللہ کا دیوانہ وار ناچنا!

رنگ لائے گی ہماری پنگا بازی ایک دن!

الیکٹرونک میڈیا کی بے لگام آمد اور اسکے ذریعے نئی نئی شہرت پانے والوں نے تو حد ہی کر دی! اپنی ہی گندگی کو مزے لے لے کر اچھا لنا اور چسکے لے لے کر پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا ، برق رفتاری سے دولت اور شہرت پانے کا آسان ترین راستہ بن گیا ہے ۔ نئی نئی شہرت پانے والوں میں سے اکثر نے تو بمشکل بلوغت بھی نئی نئی پائی ہے ۔

افرنگ کا ہر، ذرہ، فردوس کے مانند تو ہو سکتا ہے لیکن قتل و غارتگری، کرپشن، مذہبی انتہا پسندی، سیاسی تعطل اور دیگر کئی شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک اپنے ترقی پذیر اور غریب بھائی بہنوں سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں۔ بلکہ اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کیا غلط اور کیا صحیح، کیا نقصان دہ اور کیا فائدہ مند، کیا جائز اور کیا ناجائز، کیا دشمنی اور کیا حب الوطنی؟ ان سب سوالوں کا کوئی فیصلہ کن اور موثر جواب حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ کیونکہ جو تھا نا خوب اب بتدریج خوب بن چکا ہے!
نئی نئی شہرت پانے والوں میں سے اکثر نے تو بمشکل بلوغت بھی نئی نئی پائی ہے ۔

کہتے ہیں اور ہو سکتا ہےکہ صحیح کہتے ہوں کہ بچوں کی جان بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ نیم آٹومیٹک بندوقیں ہر ایک کے ہاتھ میں پکڑا دی جائیں۔ اسکولوں کے اسٹاف کو مسلح کیا جائے۔ ۔ کیونکہ اسلحہ اور وہ بھی خوب اسلحہ رکھنا ہر امریکی کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ لیکن ساتھ یہ بھی اصرار کہ سرکار اپنے خرچے کم کرے ، بیرونی قرضے نہ لیے جائیں اور ٹیکسوں میں ہرگز اضافہ نہ کیا جائے۔ دوسری طرف سے یہ تقاضا کہ سرکاری فلاحی پروگراموں میں کمی نہ کی جائے اور ملک کے ہر شخص کو خوش رکھا جائے۔۔۔۔ تو پھر اس قیامت کے خسارے کو کیسے کم کریں؟

اسکولوں کے اسٹاف کو مسلح کرنے کے لیے اربوں ڈالر کا انتظام وہ بھی ،مالیاتی عالم نزع، میں کیسے ممکن ہو، کوئی کچھ نہیں بتاتا۔۔ تو معاملات کچھ ایک جیسے ہی ہیں۔ چھوٹے بڑے کا فرق ہے۔ اب تو ان ممالک میں میڈیا نے بھی اپنے آپ کو روایتی پابندیوں سے آزاد کرلیا ہے۔ دعووں کے باوجود توازن اور غیر جانبداری کھڑکی سے باہر!

کچھ عرصے پہلے پاکستان اور امریکہ کے بہتر تعلقات میں دلچسپی رکھنے والے ایک گروپ نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے امریکہ مخالف جذبات اور انکی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کی۔

قدرتی طور پر اس سلسلے میں انکا پہلا ہدف پاکستانی میڈیا کا مطالعہ تھا اور یہ سوال کہ مبینہ طور پر کس طرح اور کیوں میڈیا امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دیتا ہے۔ ایک منظم اور گہری اسٹڈی کے بعد اس گروپ کو معلوم ہوا کہ پاکستانی میڈیا کی ہٹ لسٹ پر پہلا نمبر تو خود پاکستان کا اپنا ہی ہے۔!!! یعنی پاکستان میں پاکستان مخالف جذبات بھڑکانے کا عمل خود پاکستان کا اپنا میڈیا ہی بڑے زور وشور سے انجام دے رہا ہے۔

پاکستانی میڈیا کے شکار ممالک میں امریکہ کا نمبر اس اسٹڈی کے مطابق تیسرا ہے۔ دوسرے نمبر پر کونسا ملک ہے، وہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔ لیکن پہلا نمبر بہرحال اپنا ہی ہے۔

پاکستان کو ایک کامیاب ریاست بننے کے لیے کئی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک طویل فہرست ہے۔ ترجیحات پاکستان کے عوام خود ہی طے کرسکتے ہیں۔ لیکن اس وقت پاکستان کی سب سی بڑی ضرورت، میری ناقص عقل کے مطابق، یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ پاکستان پر ہاتھ ذرا ہلکا رکھیں! امید ہے افاقہ ہوگا!
XS
SM
MD
LG