رسائی کے لنکس

حافظ سعید کی نظر بندی میں توسیع پر وفاقی حکومت سے جواب طلب


امير جماعت الدعوۃ حافظ سعید۔ فائل فوٹو

وزارت داخلہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حافظ سعید کو دہشتگردی پھیلانے کے الزام کی وجہ سے نظربند کیا۔ يہ چندہ اکٹھا کرتے ہيں جو مختلف سرگرميوں ميں استعمال کرتے ہيں۔

ضیاءالرحمن

امير جماعت الدعوۃ کی نظربندی سے متعلق نظر ثانی بورڈ نے وفاقی حکومت سے نظربندی میں توسیع سے متعلق تحریری وجوہات طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو بھی پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل نظر ثانی بورڈ نے امير جماعت الدعوۃ حافظ سعید کی نظر بندی میں توسیع کے معاملے کی سماعت کی۔

وزارت داخلہ کی طرف سے سپیشل سیکرٹری احمد رضا اور کرنل وجاہت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ستار ساحل نظر ثانی بورڈ کے سامنے پیش ہوئے۔

حافظ سعید کو کڑے پہرے میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش کیا گیا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حافظ سعید کو دہشتگردی پھیلانے کے الزام کی وجہ سے نظربند کیا۔ يہ چندہ اکٹھا کرتے ہيں جو مختلف سرگرميوں ميں استعمال کرتے ہيں۔ انہيں عالمی تنظیموں کے دباؤ پر نظربند کیا ہے۔

نظرثانی بورڈ نے حافظ سعید کو بھی الزامات کے دفاع کا موقع دیا۔ حافظ سعید نے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آج تک کوئی ریاستی ادارہ ان پر دہشتگردی کا الزام ثابت نہیں کر سکا۔ عدالت عظمي نے بھی 2009 میں ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ 2017 میں تمام لیڈرز کو اکٹھا کرکے حکومتي کشمیر پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔جس پر حکومت نے ان پر دباو ڈالنے کا فیصلہ کیا اور انھیں کشمیر کی آزادی کی تحریک چلانے پر سزا دی جا رہی ہے۔

حافظ سعید نے کہا کہ کیا کشمیر کی آزادی کیلئے جہاد کرنا دہشتگردی نہيں ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے ہیں اس لیے وہ برہان وانی اور کشمیر کے لوگوں کیلئے ریلیاں نکال رہے ہیں۔ وہ جہاد جاری رکھیں گے اور چندہ بھي اکٹھا کرتے رہيں گے۔

حافظ سعید نے مزید کہا کہ ان کی جماعت فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ انکے تمام تر مالی معاملات کا آڈٹ کیا جاتا ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے نظر بندی میں توسیع سے متعلق دلائل دیے۔

اس پر ماہر قانون اور سول سوسائٹي کے رہنما عبداللہ ملک نے وائس آف امريکہ کو بتايا کہ آئين کے آرٹيکل 10 اے کے تحت حکومت کسي بھي شخص کو بلاجواز حراست ميں نہيں رکھ سکتي۔ اگر کسي بھي شخص کے خلاف ايسے الزامات ہوں تو ملزم کو بھي بتايا جائے اور اسے حق ديا جائے کہ وہ اپنے دفاع ميں وکلاء کي مدد لے سکے۔

عبداللہ ملک نے کہا کہ حکومت 90 دنوں کي نظر بندي ميں حافظ سعيد کے خلاف کوئي ثبوت پيش نہيں کر سکي ہے۔ وفاقي نظر ثانی بورڈ نے معاملے پر سماعت 15 مئی تک ملتوی کردی اور اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف کو طلب کرتے ہوئے حافظ سعید اور ان کے چار ساتھیوں کی نظربندی کی تحریری وجوہات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG