رسائی کے لنکس

ہیٹی :سست رفتار امدادی کوششوں اور بدعنوانیوں پر احتجاج، لوگ سڑکوں پر نکل آئے


ہیٹی

ہیٹی

ایسو سی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق ان میں سے بہت سے لوگوں نےدعویٰ کیا ہے کہ ہیٹی کے حکام اُن سے امداد میں دیے ہوئے سامانِ خوراک کے بدلے میں پیسے وصول کررہے ہیں

ہیٹی میں اُس ہولناک زلزے کے تین ہفتے بعد، جس میں دارالحکومت پورٹ او پرنس اور آس پاس کے علاقےتباہ ہوگئے ہیں، زلزلے کے متاثرین سست رفتار سے امداد کی فراہمی اور ہیٹی کے حکام کی مبیّنہ بدعنوانیوں پر احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

سینکڑوں لوگ ناکافی خوراک اور دوسرے وسائل کے فقدان پر اپنی برہمی کا اظہار کرنے کے لیے بدھ کے روز پورٹ او پرنس کے ایک نواحی علاقے میں جمع ہوگئے۔ ایسو سی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق ان میں سے بہت سے لوگوں نےدعویٰ کیا ہے کہ ہیٹی کے حکام اُن سے امداد میں دیے ہوئے سامانِ خوراک کے بدلے میں پیسے وصول کررہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ زلزلے سے تباہ حال ہیٹی میں اگرچہ امدادی کاموں کی رفتار تیز ہورہی ہے، لیکن متاثرہ لوگوں کی فوری اہمیت کی ضرورتوں کو پورا کرنے لیے ابھی بہت کام باقی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن سے درخواست کی ہے کہ وہ ہیٹی میں بین الاقوامی امدادی کوششوں کو مربوط کرنے کے لیے ‘کوئى قائدانہ رول’ سنبھال لیں۔

مسٹر کلنٹن نے ، جو پہلے ہی ہیٹی کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہیں، کہا ہے کہ وہ اپنی سی بہترین کوشش کریں گے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ 12 جنوری کے زلزلے کے بعد سےکریبی کے اس ملک کو جن مشکل مسائل کا سامنا ہے وہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ مسٹر کلنٹن اسی ہفتے دوبارہ ہیٹی جائیں گے۔ لیکن اُس نے ایسی کوئى تفصیل فراہم نہیں کی وہ وہاں کیا کریں گے اور کب تک وہاں قیام کریں گے۔

12 جنوری کے زلزلے میں کم سے کم ایک لاکھ 50 ہزار تک لوگ ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 10 لاکھ بے گھر ہوگئے تھے۔زندہ بچ جانے والے بہت سےلوگ بستر کی چادروں سے بنائے ہوئے خیموں میں دن گزار رہے ہیں اور انہیں ابھی تک مناسب خوراک، پینے کےپانی اورعلاج کی سہولتوں کے لیے روزانہ سخت بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے۔

XS
SM
MD
LG