رسائی کے لنکس

ہیٹی کو بے مثال بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے : بان گی مون


اقوامِ متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان گی مون

اقوامِ متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان گی مون


اقوامِ متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان گی مون نے کہا ہے کہ ہیٹی میں پچھلے ہفتے کے ہولناک زلزلے کے نتیجے میں جتنی بڑی تباہی آئى ہے اور جس قدر بھاری نقصان ہو ا ہے، اُس کی وجہ سے بحیرہ کریبی کے اس ملک کواُس بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے ، جس کی پہلے کوئى مثال نہیں ملتی۔

مسٹر بان اتوار کے روز ہیٹی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اُن مصیبت زدہ لوگوں کے لیے امدادی کوششوں کا جائزہ لیں گے ، جنکے بارے میں اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ “ کئى عشروں میں انسانی مصائب کا ایک سنگین ترین بحران ” ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امدادی کوششوں کو باہم مربوط کرنا،ضرورت من لوگوں کو فوری اہمیت کی امداد فراہم کرنا اور ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ جانوں کو بچانا ، اقوامِ متحدہ کے لیے اعلیٰ ترین ترجیح کے معاملات ہیں۔

بین الاقوامی امدادی کارکن7.0 شدّت کے زلزلے پانچ روز بعد دارالحکومت پورٹ او پرنس میں اور اُس کے اطراف میں زلزلے میں بچ جانے والے لوگوں کو اشد ضروری سامان خوراک اور پینے کا صاف پانی پہنچانے اور انہیں طبّی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے دن رات سر توڑ محنت کررہے ہیں۔

امدادی کاموں کی نگرانی پر مامور امریکہ کے ایک چوٹی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کَین کِین نے کہا ہے کہ سڑکیں چونکہ بُری تباہ ہوگئى ہیں اس لیے امدادی کارکن، بار برداری کے لیے ہیلی کاپٹروں پر بھروسا کررہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ہیٹی میں مقیم امریکی شہری اگر وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں تو اُنہیں چاہئیے کہ وہ اپنا امریکی پاسپورٹ لےکر براہ راست دارالحکومت پورٹ او پرنس کے ہوائى اڈے پر پہنچ جائیں۔

مسٹر بان ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے اُس ہیڈ کوارٹر کے کھنڈروں کا جائزہ لیں گے جو زلزلے میں تباہ ہوگیا تھااور جس کے ملبے میں متعدد ملازمین دفن ہوگئے تھے۔

مسٹر بان نے ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے عملے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ عالمی ادارے کو بد ترین اطلاع کے لیے تیار رہنا چاہئے ۔ اقوامِ متحدہ کے عملے کے درجنوں ارکان ہلاک ہوگئے ہیں اور تقریباً 300 لوگ لاپتا ہیں۔

اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز ہیٹی میں عالمی ادارے کے خصوصی نمائندے ہَیڈی انّابی اور اُن کے نائب لوئیز کارلوس ڈا کوسٹا کی ہلاکتوں کی تصدیق کردی تھی۔اُن کی لاشیں اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر کی منہدم عمارت کے اندر، ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے قائم مقام پولیس کمشنر کی لاش کے ساتھ ہی ملی تھیں۔

ریڈ کراس کے ایک ترجمان نے اتوار کے روز کہا ہے کہ راستے مسدود ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کو دارالحکومت سے باہر دوسرے مقامات تک وسیع نہیں کیا جاسکا ہے ۔ لیکن ابتدائى اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ زلزلے نے جنوب مغربی شہر لیو گَین کے 80 فیصد سے زیادہ حصّے اور قریب میں واقع گرسئیر شہر کے تقریباً نصف حصّے کو تباہ کردیا ہے۔

30 ملکوں سے آئے ہوئے امدادی کارکن منہدم عمارتوں کے ملبے میں بدستور زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کررہے ہیں۔ جبکہ اس بارے میں اُن کے خدشات بھی بڑھتے جارہے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بہت سے پھنسے ہوئے لوگوں تک بروقت نہ پہنچ سکیں۔

ہفتے کے روز ایک سفارتی چپقلش اُس وقت شروع ہوگئى جب فرانس نے امریکہ پر الزام عائد کیا اُس نے یہ فیلصلہ کرتے ہوئےکہ کونسے طیارے پورٹ او پرنس کے ہوائی اڈے پر اُتر سکتے ہیں کونسے نہیں، ضرورت سے زیادہ اختیارات حاصل کرلیے ہیں۔

ایسے وقت میں جب پورٹ او پرنس میں تشدّد اور لوٹ مار کی اطلاعات گشت کررہی ہیں ، زندہ بچ جانے والے کچھ لوگ ہفتے کے روز سے پیدل ہی تباہ شدہ شہر سے نکلنا شروع ہوگئے ہیں۔

ہیٹی کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ اب تک اجتماعی قبروں میں لگ بھگ 40 ہزار لاشیں دفن کرچکے ہیں۔اور انہوں نے پیش گوئى کی ہے کہ مرنے والوں حتمی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG