رسائی کے لنکس

ہیٹی : زلزلے کے دس دن بعد ایک بوڑھی عورت کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا


پورٹ او پرنس میں ایک زخمی عورت کا علاج ہو رہا ہے

پورٹ او پرنس میں ایک زخمی عورت کا علاج ہو رہا ہے

ہیٹی میں اُس ہولناک زلزلے کے دس دن بعد جس میں دارالحکومت پورٹ او پرنس ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے، ہیٹی کی بوڑھی عورت کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس 84 سالہ عورت کا علاج کرنے والے ڈاکٹر ارنسٹ بنجامن کے حوالے سے کہا ہے کہ اُس کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ بچ نہ پائے۔ بدھ کے روز ملبے کے ڈھیروں میں زندہ مل جانے والے آخری شخص کے بعد مزید زندہ لوگوں کے مل جانے کی اُمید ختم ہوتی جا رہی تھی۔

حکومت کے اس وعدے کے بعد کہ وہ چار لاکھ سے زیادہ لوگوں کو شہر کے باہر خیمہ بستیوں میں منتقل کر دے گی، جمعے کے روز ہزاروں لوگ دارالحکومت سے نکل جانے کے لیے دوڑ بھاگ کرتے رہے۔

لوگوں کو عارضی خیمہ بستیوں تک پہنچانے کے لیے مفت بسیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
زلزلے میں اندازاً دو لاکھ لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ مزید15 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں، وہ گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے اُن کیمپوں میں مقیم ہیں، جہاں صفائى سُتھرائى کا بہت کم یا کوئى انتظام نہیں ہے۔

۔ فلاحی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ بہت سے مریض جن کے زخموں کا علاج نہیں کیا گیا تھا، زخموں کے پک جانے بعد دم توڑ گئے۔

امریکی فوج نے اگرچہ جمعرات کے روز ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کی اُس بندر گاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، جسے زلزلے سے شدید نقصان پہنچا تھا، تاہم ناقص اور ٹوٹی ہوئى سڑکوں کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل بدستور ایک مسئلہ ہے۔

XS
SM
MD
LG