رسائی کے لنکس

ہیٹی: عارضی ہسپتال کی تعمیر میں امریکی فوج کی مدد


امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ ہیٹی کے زلزلے میں اُن زخمی ہونے والے لوگوں کی سہولت کے لیے، جن کے زخم اب مندمل ہو رہے ہیں، ایک عارضی ہسپتال کی تعمیر کے لیے ہیٹی کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

امریکی مسلح افواج کی جنوبی کمان کے کمانڈر جنرل ڈگلس فریزر نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اس ہسپتال میں تین ہزار سے لے کر پانچ ہزار تک بستر ہوں گے اور اس کی تعمیر سے ضرورت مند لوگوں کو فراہم کی جانے والی طبّی دیکھ بھال کی گنجائش میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کے ہاسپِٹل شِپ میں ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کی گنجائش اب ختم ہوتی جا رہی ہے، جو پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے ہیں۔ اس لیے کہ بعض مریضوں کے زخموں کے لیے توقع سے زیادہ دیر تک علاج کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ نیا عارضی ہسپتال، ہاسپِٹل شِپ سے خارج ہونے والے مریضوں کو وہ طبّی دیکھ بھال اور آرام سے رہنے کی جگہ فراہم کرے گا جس کی اُنہیں اُس وقت تک ضرورت ہو گی، جب تک وہ پوری طرح صحت یاب نہیں ہو جائیں گے۔

جنرل فریزر نے کہا ہے کہ بعض مقامات پر زلزلے کے متاثرین کو کافی سامانِ خوراک بھی فراہم نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہیٹی کی صورتِ حال اگر چہ بہتر ہوتی جا رہی ہے، لیکن فوج کو ابھی ایسی جگہوں کا پتا چل رہا ہے جہاں 12 جنوری کے زلزلے کے بعد ابھی تک امداد نہیں پہنچی ہے۔

ڈَیووس، سُوئٹزر لینڈ میں جاری عالمی اقتصادی فورَم میں ہیٹی کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی اور امریکہ کے سابق صدر بِل کلنٹن نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹی میں بہت سے لوگ ابھی تک پیٹ بھر خوراک اور پینے کے لیے صاف پانی کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں سامان کی تقیسم کے لیے مزید مرکزوں اور ٹرکوں کی ضرورت ہے۔

مسٹر کلنٹن نے فَورم میں عطیات دینے والے بین الاقوامی اداروں اور ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرہٴ کریبی کے اس تباہ حال ملک میں طویل المعیاد سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے اس بحران کو ” ہیٹی کے لوگوں کے مستقبل کو دوبارہ تصّور میں لانے کا موقع “ قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ہیٹی کے لیے پہلے ہی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کی امداد فراہم کر دی گئى ہے یا مخصوص کی جاچکی ہے۔ اور مزید آٹھ لاکھ 30 ہزار ڈالر کی امداد کے وعدے کیے گئے ہیں۔

اس کے باوجود، ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا ہے کہ لاکھوں لوگوں کے لیے صورتِ حال بدستور نازک ہے۔ ہیٹی میں ریڈ کراس کے سربراہ ریکارڈو کونٹی نے کہا ہے کہ پورٹ او پرنس کے غریب ترین محلوں کے لوگوں کو ابھی تک سر چُھپانے کے لیے کسی محفوظ جگہ، سامانِ خوراک، علاج کی سہولتوں اور صفائى کے انتظام کی شدید ضرورت ہے۔

ہیٹی میں اُس ہولناک زلزلے کے 15 دن بعد، جس میں دارالحکومت کی بیشتر عمارتیں زمیں بوس ہو گئى تھیں، فرانس کی ایک امدادی ٹیم نے بدھ کے روز پورٹ او پرنس میں ایک نو عمر لڑکی کو مَلبے سے زندہ نکال لیا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریڑی جنرل بان گی مون نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کا مِشن اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں سے وابستہ کارکن ہیٹی کے اُس زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں، جس میں اندازاً دو لاکھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ پورٹ او پرنس میں صحت کے 150 مرکز قائم کر دیے گیے ہیں اور یہ مرکز اب کام کر رہے ہیں۔

تاہم سیکریٹری جنرل نے ہیٹی کے اُن اندازاً دس لاکھ لوگوں کے لیے خیموں کی ضرورت پر زور دیا، جو7.0 شدّت کے اس زلزلے میں بے گھر ہو گئے تھے۔انہوں نے ”کام کے بدلے نقد“ نامی اُس پروگرام کے لیے مدد کی اپیل بھی کی، جس کا حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے اور جس کا مقصد ہیٹی کے دو لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ملک کی تعمیرِ نو کا کام دے کر اُنہیں روز گار فراہم کرنا ہے۔

عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ ہیٹی کو دوبارہ تعمیر کرنے میں کم سے کم دس سال لگیں گے، جو کہ مغربی نصف کرہ ارض کا غریب ترین ملک ہے۔

XS
SM
MD
LG