رسائی کے لنکس

ہیٹی میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی


ہیٹی کا صدارتی محل زلزلے کے بعد

ہیٹی کا صدارتی محل زلزلے کے بعد

دارالحکومت پورٹ او پرنس اندھیرے میں ڈوب گیا ہے اور ہزاروں لوگ منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے ہیں

ہیٹی میں آنے والے7.0 شدت کے زلزلے کے بعد بدھ کے روز دارالحکومت پورٹ اوپرنس میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔ شہر کی بڑی بڑی عمارتیں، ہوٹل، ہسپتال، ریسٹورنٹ اور کاروباری مراکز زمیں بوس ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز دارالحکومت پورٹ اوپرنس سے زیادہ دور نہیں تھا اس لیے وہاں سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔

ہیٹی کے وزیراعظم ژاں میکس بیل ریو نے سی این این سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ جب کہ ریڈ کراس نے کہا ہے کہ زلزلے سے 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ہزاروں لوگ ملبے کے نیچے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن اس کے باوجود متاثرہ علاقوں میں لوٹ مار کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ ہیٹی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ زلزلے کے ہر نئے جھٹکے پر کھلے آسمان تلے سڑکوں پر موجود زخمی افراد خوف کے مارے چیخیں مارتے ہوئے اِدھر اُدھر بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ دو صدیوں کے دوران ہیٹی میں آنے والے یہ سب سے تباہ کن زلزلہ ہے۔

دارالحکومت میں سیاحوں کی دل چسپی کا حامل شاندار صدارتی محل بھی کھنڈر بن چکا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امن مشن کا پانچ منزلہ مرکزی دفتر بھی منہدم ہو گیا ہے اور نیویارک میں تنظیم کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ عمارت میں موجود عملے کے 100 ارکان لاپتا ہیں، جن میں مشن کے سربراہ ہیدی انابی بھی شامل ہیں۔ بین الااقومی امن فوج میں شامل اردن، برازیل اور چین کی فوجیوں کے ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ جب کہ شہر میں سیاحوں میں انتہائی مقبول ایک فائیو سٹار ہوٹل کی کئی منزلہ عمارت بھی تباہ ہو گئی ہے جس میں کم از کم 200 افراد موجود تھے۔

پولیس، اقوام متحدہ اور بین الااقوامی ریڈ کراس کی گاڑیاں زخمیوں کو ہسپتالوں کی طرف لے جانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیں لیکن زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹنے پھوٹنے سے انھیں انتہائی دشواری کا سامنا رہا۔ امریکی صدر باراک اوباما بدھ کے روز ایک ٹی وی بیان کے ذریعے ہیٹی کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ان کی سوچیں اور دعائیں ہیٹی کے عوام کے ساتھ ہیں اور امریکہ ان کی بڑے پیمانے پر امداد کے لیے تیار ہے۔

عالمی رہنماؤں نے ہیٹی کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امداد کی ترسیل کا کام آئندہ چند گھنٹوں میں شروع ہونے والا ہے۔

تقریباََ ایک کروڑ آبادی پر مشتمل ہیٹی کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکو ں میں ہوتا ہے۔ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق ملک کی تقریباََ 80 فیصد آبادی غربت کی لکیر سےنیچے زندگی گزار رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG