رسائی کے لنکس

ہیٹی: بارشوں کا موسم شروع ہونے سے قبل بے گھر افراد کے عارضی پناہ گاہیں تعمیر کرنے کی کوششیں


ہیٹی: بارشوں کا موسم شروع ہونے سے قبل بے گھر افراد کے عارضی پناہ گاہیں تعمیر کرنے کی کوششیں

ہیٹی: بارشوں کا موسم شروع ہونے سے قبل بے گھر افراد کے عارضی پناہ گاہیں تعمیر کرنے کی کوششیں

بین الاقوامی امدادی اداروں نے کہا ہے کہ اپریل میں بارشوں اور طوفانی جھکڑوں کا موسم شروع ہونے سے قبل ہیٹی میں زلزلے سے متاثرہ لاکھوں بے گھر افراد کو عارضی پناہ گاہیں فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔نقل مکانی کے امور سے متعلق بین الاقوامی تنظیم نے ، جو ان کوششوں میں پیش پیش ہے،کہا ہے کہ امدادی ادارے ایسی جگہیں تلاش کر رہے ہیں جہاں اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے کیمپ لگائے جاسکیں۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی اوایم)کے اندازوں کے مطابق ہیٹی میں زلزلے سے متاثرہ دس لاکھ سے زیادہ افراد کو عارضی پناہ گاہوں کی شدید ضرورت ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثریت دارالحکومت میں ہے۔
آئی او ایم نے کہاہے کہ دارالحکومت پورٹ او پرنس کے مضافات میں واقع تبرے میں تقریباً ساڑھے تین ہزار بے گھر افراد کے لیے قائم کی جانے والی پہلی منظم بستی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

تنظیم یہ تسلیم کرتی ہے کہ یہ پہلاکیمپ بے گھر افراد کی ضروریات کے ناکافی ہے لیکن اس کا کہناہے کہ یہ اس کام کی ابتدا ہے۔آئی او ایم کے ترجمان جین فلیپ چوزی کا کہنا ہے کہ امدادی اداروں پر یہ شدید دباؤ ہے کہ وہ چند ماہ بعد شروع ہونے والے بارشوں کے موسم سےپہلے عارضی پناہ گاہوں کی تعمیر کے لیے اپنے کارروائیوں میں تیزی لائیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑی تعداد میں خیمے موجود نہیں ہیں، اس لیے ان کی ملک میں درآمد سے قبل آئی او ایم اور اس کے شراکت دار بے گھر افراد کی رہائشی سہولتوں میں بہتری لانے کے لیے ان میں ترپالیں اور پلاسٹک کی چادریں تقسیم کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خیمے پہلی ترجیح ہیں ۔ لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے اور ہمیں مستقل پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ عارضی پناہ گاہوں کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہم اس وقت بے گھر افراد کو زیادہ سے زیادہ خیمے ، اور پلاسٹک کی شیٹس فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، کیونکہ ان کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم نے مزید مستقل رہائش گاہیں بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
ترجمان نے اسے ایک پیچیدہ عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیموں اور عارضی پناہ گاہوں کا دوسرا سامان منگوانے سے پہلے کیمپ کے لیے مناسب جگہ کی نشان دہی کرنی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پورٹ او پرنس کے اندر اور اس کے آس پاس واقع کھلی جگہوں پر ملبے کے ڈھیر پڑے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جگہ کا تعین ہوجانے کے بعد زمین کو ہموار کرنا ہوگا، وہاں بجلی ، پانی اور نکاسی آب کی سہولتوں کی فراہمی اور دوسرا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا ہوگا۔

آئی او ایم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امدادی ادارے ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل بڑی خیمہ بستیاں تعمیر کرنا نہیں چاہتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ارادہ اس کی بجائے متعدد ایسے چھوٹے کیمپ تعمیر کرنے کا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ 10 ہزار بے گھر افراد کو بسایا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG