رسائی کے لنکس

امریکی فوجی ہیٹی میں امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش

  • ال پیسن

امریکی فوجی ہیٹی میں امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش

امریکی فوجی ہیٹی میں امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش

دو ہزار امریکی فوجی منگل کے روز پورٹ او پرنس پہنچ گئے ہیں جہاں وہ گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے کے متاثرین کو امداد پہنچائیں گے۔ آج کچھ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے صدارتی محل میں اترے، جہاں انھوں نے متاثرین میں امدادی سامان بانٹنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے تالیاں بجاتے ہوئے فوجیوں کا خیر مقدم کیا۔

ہیٹی میں امریکی فوجی متعدد امدادی کارروائیاں میں مصروف ہیں، جن میں ہوائی جہاز کے ذریعے سامان گرانا اور بدھ کے روز ایک امریکی بحری جہاز پر بنے ہوئے ہسپتال کی آمد بھی شامل ہے۔

کئی ملکوں کی طبی امدادی ٹیمیں پہلے ہی ہیٹی میں موجود ہیں۔ امریکی مشن کے سربراہ میجر جنرل ڈینیئل ایلن کہتے ہیں کہ امریکی فوج کی ترجیحات میں امداد کی ترسیل کے لیے گاڑیاں فراہم کرنا، صاف پانی پیدا کرنے والی مشینیں اور ملبہ صاف کرنے اور دوبارہ تعمیر کے لیے ساز و سامان فراہم کرنا شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوجی ہیٹی کی حکومت کے ساتھ مل کر پانی کی تیاری اور فراہمی، ایندھن کی فراہمی اور دوسری ضروریات کی ترسیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔
جنرل ایلن کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی فوجی دستے فوری طور پر متاثرین تک کھانا، پانی اور دوسری ضروری اشیائے زندگی پہنچانے کے لیے بھی کوشاں ہیں:

’ہیٹی میں سامان کی ترسیل بڑا مشکل کام ہے، جس میں زمین پر فوجیوں کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کا ضروری سامان فراہم کر سکیں، اس کے علاوہ امدادی سامان کی ضرورت ہے اور اس کام کے لیے انھیں نقل و حمل کی صلاحیت درکار ہے تاکہ وہ زیادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکیں۔‘

جنرل ایلن کہتے ہیں کہ اقوامٕ متحدہ اور ہیٹی کی فوج وہاں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمے داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سخت مشکل حالات کے باوجود امن و امان کی صورتِ حال زیادہ تر اچھی ہے:

’ہم عدم استحکام کی علامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فی الحال ہیٹی میں کچھ ایسے علاقے ہیں جب کہ ہیٹی اور اقوامِ متحدہ کی افواج مقامی پولیس کے ساتھ مل کر ان علاقوں پر قابو پانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ وہ ان سے نمٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ہم پراعتماد ہیں کہ وہ ایسا کرتے رہیں گے۔‘

ایلن کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اب تک صرف اپنی کارروائیوں کے لیے سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔ پینٹاگان کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فوجی تین بحری جہازوں ہی میں رہیں گے اور فوجیوں کا ایک چھوٹا سا دستہ رات کے وقت سامان کی نگرانی کرے گا۔

اس کے علاوہ امریکی فضائیہ نے پیر کے روز سے پورٹ او پرنس میں امدادی سامان گرانا شروع کر دیا ہے۔ یہ سامان ایک ایسے جہاز سے گرایا گیا جو امریکہ سے اڑا اور سامان گرا کر واپس امریکہ چلا گیا تاکہ پورٹ او پرنس کے ہوائی اڈے پر دباؤ نہ پڑے۔

جنرل ایلن کہتے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں ہیٹی میں پانچ ہزار امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے، جب کہ مزید پانچ ہزار فوجی بحری جہازوں مدد کے لیے موجود ہوں گے۔ بدھ کے روز بحری جہاز یوایس این ایس پر قائم ہسپتال ہیٹی پہنچ جائے گا، جس میں ایک ہزار بستر، 12 آپریشن تھیئٹر اور سینکڑوں کی تعداد میں طبی عملہ موجود ہے۔

جمعے کے روز سے پورٹ او پرنس کے ہوائی اڈے کا کنٹرول امریکی فوج نے سنبھال لیا ہے۔ پینٹاگان کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر روزانہ ایک سو سے زیادہ پروازیں اتر رہی ہیں، جو پہلے کی نسبت دس گنا زیادہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG