رسائی کے لنکس

مناسک حج اتوار سے شروع ہورہے ہیں


حج کے لیے مکہ پہنچنے والا ایک مسلمان غار حرا کے قریب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے۔ 11 نومبر، 2010

حج کے لیے مکہ پہنچنے والا ایک مسلمان غار حرا کے قریب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے۔ 11 نومبر، 2010

دنیا بھر سے حج کی غر ض سے سعودی عرب پہنچے ہوئے لاکھوں عازمین حج اتوار سے مناسک شروع کررہے ہیں۔ اتوار کو حاجیوں کے مکہ مکرمہ سے منٰی کی خیمہ بستی پہنچتے ہی مناسک شروع ہوجائیں گے جبکہ حج کا رکن اعظم یعنی میدان عرفات کا وقوف پیر15نومبرکو ہو گا۔

سعودی ذرائع کے مطابق اس سال20لاکھ سے زائد مسلمان فریضہ حج ادا کریں گے جن میں دنیا بھر کے مختلف ملکوں سے آنے والے ساڑھے 17لاکھ افراد کے علاوہ ڈھائی لاکھ سے زائد مقامی سعودی باشندے اور وہاں مقیم غیر ملکی کارکن بھی شامل ہیں۔

ا س سال سب سے زیادہ حاجیوں کا تعلق انڈونیشیا سے ہے جن کی تعداد دولاکھ ہے۔ پاکستان سے ایک لاکھ 65 ہزار ، بھارت سے ایک لاکھ 60ہزار، بنگلہ دیش سے 91ہزار، ترکی سے ایک لاکھ، ایران سے ایک لاکھ، نائیجیریا سے 95 ہزار، روس سے 20ہزار، چین سے 13ہزار، 46 غیر عرب افریقی ممالک سے ایک لاکھ80ہزار اور سری لنکا سے چھ ہزار افراد کے علاوہ یورپ، امریکہ، کینیڈا اور لاطینی امریکہ سے بھی ہزاروں افراد فریضہ حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

سعودی حکومت کی طرف سے کسی ملک کو اس کی کل مسلمان آبادی کے اعشاریہ صفر ایک فیصد کی شرح سے حج ویزے جاری کئے جاتے ہیں۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ مقامی باشندوں کو بھی حکومت کی طرف سے حج ادا کرنے کے لئے خصوصی پرمٹ جاری کئے گئے ہیں جنہیں دکھائے بغیر ان افراد کو مکہ مکرمہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس اقدام کا مقصد حاجیوں کی سہولت کے لئے کئے جانے والے انتظامات سے بھر پور استفادہ کو یقینی بنانا اور مکہ کے انفراسٹرکچر پر غیر معمولی دباؤ میں اضافے کو روکنا ہے تا کہ حج کے موقع پانی کی فراہمی، صفائی اور ٹریفک کے سنگین مسائل پیدا نہ ہوں- پرمٹ کے بغیرداخلے کی کوشش کرنے والوں کو روکنے کے لئے مکہ شہر کو جانے والے راستوں پر 12ناکے لگا ئے گئے ہیں- اس کے علاوہ کم استعمال ہونے والے غیر معروف اور سنسان راستوں پر بھی چیک پوائنٹ بنا دئیے گئے ہیں جہاں خواتین پر مشتمل عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔

ان راستوں سے غیر قانونی طور پر داخلے کی کوشش کرنے والوں کو روکنے کے لئے ہیلی کاپٹر وں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر قانونی حاجیوں کو لانے والی گاڑیاں ضبط کر لی جائیں اور انہیں لانے والے سعودی باشندوں کو دس ہزار ریال فی کس جر مانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ایسا کرنے والے غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

مناسک حج کی ادائیگی کے پانچ دنوں کے دوران منٰی کی خیمہ بستی میں پاکستان سے گورنمنٹ اسکیم کے تحت جانے والے 80ہزارعازمین حج کے خیمے منٰی کی پرانی حدود میں جمرات کے قریب لگائے گئے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے جنوبی ایشیاء کے 16معلمین کے کیمپ ساتھ ساتھ قائم کر کے ہر ایک کو پانچ ہزار پاکستانی حاجیوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ یہاں سے شیطان کو کنکریاں مارنے جانے کے لئے ان حاجیوں کو پیدل زیادہ فاصلہ طے نہیں کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب حکومت پاکستان نے پرائیوٹ حج گروپ آرگنائزر کی طرف سے عازمین حج کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے مکہ مکرمہ میں مانیٹرنگ سیل بھی تشکیل دیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG