رسائی کے لنکس

حج کے روحانی اجتماع کی برکات، سراج وہاب کا انٹرویو

  • بہجت جیلانی

جبل الرحمہ

جبل الرحمہ

حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد، جِس میں عرفات میں وقوف اعظم شامل ہے، حجاجِ کرام اب منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مار رہے ہیں، جو حج کے مناسک کا ایک اہم جزو ہے

’لبیک اللٰھم لبیک‘ کی روح پرور صداؤں کی بازگشت مکہ مکرمہ میں اور پھر عرفات اور مزدلفہ سے حج کے مناسک کی ادائیگی کرتے ہوئے حجاج کرام کی منیٰ آمد پر ایک ایسا تاثر پیش کرتی ہے، جسے الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔

اِس سال دنیا بھر سے تقریباً 20 لاکھ مسلمانوں نے فریضہٴ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کے سفر کی سعادت حاصل کی۔

حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد، جِس میں عرفات میں وقوف اعظم شامل ہے،حجاجِ کرام اب منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مار رہے ہیں، جو حج کے مناسک کا ایک اہم جزو ہے۔

اِس مرتبہ، مکہ مکرمہ میں خانہٴ کعبہ میں توسیع کے منصوبوں کی وجہ سے حجاجِ کرام کی تعداد میں تقریباً 20 فی صد کمی کردی گئی تھی۔

مسلمانوں کا یہ سالانہ اجتماع ایک ایسا یادگار موقع ہوتا ہے جب ہر رنگ و نسل کے مسلمان جِن میں مرد، خواتین اور بوڑھے سبھی شامل ہوتے ہیں، خدا کے حضور سر بسجود ہو کر اُس کی رحمتوں کے طلبگار ہوتے ہیں۔

ہم نے اِس سال حج کی ادائیگی اور دستیاب سہولتوں اور اِس روحانی اجتماع کی برکتوں کے حوالے سے روزنامہ ’عرب نیوز‘ کے سینئر ایڈیٹر سراج وہاب سے گفتگو کی، جِنھوں نے اِس برس بھی حج کی سعادت حاصل کی۔

اُنھوں نے منیٰ سے ٹیلی فون پر براہِ راست گفتگو کے دوران مقامات ِمقدسہ کی منظر کشی کی اور خانہٴ کعبہ میں توسیعی منصوبے کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔

تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG