رسائی کے لنکس

امریکہ میں حلال گوشت کا بڑھتا ہوا کاروبار

  • جیف کورڈ

میری لینڈ کے ذبح خانہ میں لٹکا ہوا بکرا

میری لینڈ کے ذبح خانہ میں لٹکا ہوا بکرا

امریکہ میں مقیم بیشتر مسلمانوں کو قانونی طور پر تصدیق شدہ اور اسلامی طریقے کے مطابق ذبح کردہ جانور کے حلال گوشت کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تاہے۔ اکثر اوقات امریکی مسلمانوں کو حلال گوشت کے حصول کی خاطر مختلف فارمز پر دستیاب پورے پورے بکرے اور بھیڑیں خرید کر خود اپنے ہاتھوں سے اسلامی طریقے کے مطابق ذبح کرنا پڑتے ہیں۔ تاہم یہ عمل امریکہ کے کئی حصوں میں غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اسکے نتیجے میں حلال گوشت کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے امریکہ کے کئی علاقوں میں مقامی کسانوں اور فارمرز نے لائسنس یافتہ حلال ذبح خانے قائم کیے ہیں جو کہ بہت کامیاب ہورہے ہیں۔

مختلف افراد کے فارمز پر 37 سال تک ملازمت کرنے والے جو کیونگ بھی انہی افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے حلال گوشت کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنا ذاتی مذبح خانہ قائم کیا ہے۔ جو کے اس نئے کاروبار کا ایک اہم حصہ ان کے وہ مسلمان گاہک ہیں جو ان جانوروں کے گوشت کی خریداری کے خواہاں ہوتے ہیں جن کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ انہیں اسلامی طریقے کے مطابق ذبح کیا گیا ہے۔

"لیمب کو" نامی فارم اور مذبح خانے کے مالک جو کیونگ کہتے ہیں کہ انہیں اس کاروبار کا خیال انکی چھوٹی بہن نے دلایا جس نے کویتی شہریت کے حامل ایک مسلمان سے شادی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان میں بہت عرصے تک اس نئے کاروبار کے خیال پر بحث و مباحثہ ہوتا رہا۔ جو کے مطابق امریکہ میں کئی مقامات پر غیر قانونی مذبح خانے چلائے جارہے ہیں جہاں حلال گوشت کی تلاش میں مگن مسلمان جاتے ہیں اور اپنی پسند کا بکرا یا بھیڑ خرید کر اسے خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کرڈالتے ہیں۔

جو کے الفاظ میں "مجھے اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیے ایک کاروبار کرنا تھا اور مجھے اس حلال گوشت کے کاروبار میں فائدہ نظر آیا۔ اب میں بھی وہی کام کرتا ہوں جو غیر قانونی مذبح خانوں میں انجام دیا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب مجھے جانور ذبح کرتے ہوئے پکڑے جانے کا خوف نہیں ہوتا کیونکہ میرے پاس اس کا لائسنس موجود ہے"۔

میری لینڈ کے اس دیہاتی علاقے میں جہاں جو نے اپنے مذبح خانہ قائم کیا ہے، بغیر لائسنس کے جانور ذبح کرنا غیر قانونی عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس پابندی کے باعث انہیں اس علاقے میں ایک ایسے لائسنس شدہ مذبح خانے کا قیام فائدہ مند نظر آیا جو مقامی مسلمانوں کی حلال گوشت کی ضروریات پورا کرسکے۔

"لیمب کو ایل ایل سی" کے نام سے کام کرنے والا جو کا مذبح خانہ امریکی وزارتِ زراعت کے مقررکردہ حفظانِ صحت اور صفائی کے اصولوں کے مطابق قائم کیا گیا ہے۔ ان کے کاروبار کا زیادہ تر انحصار قومی سطح کے حامل گروسری اسٹور ز کی ایک بڑی چین پر ہے جسے وہ ایک معاہدے کے تحت گوشت فراہم کرتے ہیں۔ تاہم وہ انفرادی سطح پر آنے والے گاہکوں کی طلب بھی پوری کرتے ہیں۔ جو کے مطابق بالٹی مور-واشنگٹن کے اس علاقے میں جہاں مسلمانوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے زائد ہے، ان کا کاروبار ہر مہینے بڑھ رہا ہے۔

جو کے مستقل خریداروں میں سے ایک سید وقار فرحت کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وقار اپنے لڑکپن کے زمانے سے ہی حلال گوشت کے حصول کیلیے مویشیوں کو اسلامی طریقے سے ذبح کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی طریقے سے مویشی کے ذبح کیلیے چھری کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے جانور کا آدھے کے قریب گلا کاٹا جاتا ہے اور اس عمل کے دوران مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآنِ کریم کی کچھ مخصوص آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔

امریکہ میں قائم روایتی مذبح خانوں میں ایک مشین کے ذریعے مویشیوں کے سر پر زوردار ضرب لگائی جاتی ہے جس کی شدت سے جانور کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اس عمل کے بعد مشینوں ہی کی مدد سے جانور کو الٹا لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ اس کے جسم میں موجود خون باہر نکل جائے۔

اسکے برعکس اسلام میں رائج ذبح کے طریقے کے مطابق جانور کو زمین پر لٹا کر اس کا منہ مکّہ میں واقع مسلمانوں کے قبلہ کی طرف کیا جاتا ہے۔ ذبح کرنے والا فرد قرآن کی آیات پڑھتے ہوئے تیز دھار چھری کی مدد سے جانور کی گردن سے گزرنے والی مرکزی شریانوں کو تیزی سے کاٹ ڈالتا ہے۔ جانور کا خون گردن پہ لگنے والے زخم سے باہر بہہ جاتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ دم توڑ دیتا ہے۔

فرحت کے مطابق گردن کاٹے جانے کے بعد جب جانور سانس لیتا ہے تو بہت زیادہ ہوا اسکے جسم کے اندر جاتی ہے ۔ ہوا اندر جانے سے جانور کے جسم کا تمام خون باہر بہہ جاتا ہے اور اس طرح اس کے پٹھوں اور گوشت میں خون نہیں جمنے پاتا۔ ان کے مطابق اسلامی تعلیمات میں ذبح کے اس عمل کو نرمی اور احتیاط سے کرنے اور جانور کو غیر ضروری تکلیف سے بچانے کی تاکید کی گئی ہے۔

جو کیونگ کہتے ہیں کہ ان کیلیے اس کاروبار کے آغاز میں سب سے مشکل کام ان کی مقامی کائونٹی، ریاست اور امریکہ کے وفاقی قوانین ِ صحت پہ عمل کو یقینی بنانا تھا۔ ان کا اپنے اس تجربے کے بارے میں کہنا ہے کہ "یہ سب کچھ اتنا مشکل تھا کہ بعض اوقات مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا میں اس زمین پر ایک نیوکلیئر ری ایکٹر تعمیر کرنے جارہا ہوں یا پھر مجھے نہر کھودنے کی ذمہ داری دے دی گئی ہے"۔

مقامی حکام کی جانب سے جو کے اس فارم کا پابندی سے معائنہ کیا جاتا ہے اور فارم کے حسنِ انتظام اورحفظانِ صحت کے اصولوں کی پاسداری کرنے پر انہیں ہمیشہ سراہا جاتا ہے۔

مقامی مسلمان کمیونٹی کے ساتھ خوشگوار روابط جو کیلیے ایک منفعت بخش کاروبار کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ اب جہاں جو خوشحال ہیں وہیں فرحت جیسےعلاقے میں بسنے والے امریکی مسلمان بھی اپنی ضرورت پوری ہونے پر خوش ہیں۔ فرحت کیلیے یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ جس جانور کا گوشت وہ جو کے فارم سے خرید یں گے وہ نہ صرف صحت مند ہوگا بلکہ اسے ذبح بھی سلامی طریقے اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کیا گیا ہوگا۔ یہ ۔

XS
SM
MD
LG