رسائی کے لنکس

اس سال 37 ہزار افغان پناہ گزین بلوچستان سے واپس جا چکے ہیں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تاہم بلوچستان میں افغان پناہ گزین اپنے ملک میں بدامنی کے باعث اپنے اور خاندان کے افراد کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجر ین کے کو ئٹہ میں ذیلی ادارے کے سر براہ ڈاکٹر انجینئیر دینیش شیر یستا کا کہنا ہے کہ 2016ء کے دوران بلوچستان سے سب سے زیادہ 37 ہزار سے افراد افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس جب کہ اس سے پہلے پندرہ ہزار رجسٹرڈ افغا ن پناہ گزین واپس جا چکے ہیں۔

وائس اف امر یکہ سے گفتگوکر تے ہوئے یو این ایچ سی ار کے مقامی سر براہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت، بین الااقوامی برادری اور امدادی اداروں کی طرف سے کئے گئے اقدامات مزید پناہ گزینوں کی واپسی کا باعث بن رہے ہیں۔

"افغان حکومت اُن کو بتا رہی ہے کہ ہم آپ کو آپ کی زمین دے دیں گے، روزانہ کے اخراجات کے حوالے سے بھی تعاون کریں گے، اس لئے پناہ گزینوں کی یہ واپسی ہورہی ہے۔ اگر پائیدار بنیادوں پر واپسی ہو تو پناہ گزین وہاں جائیں تو اُن کو مشکل نہیں ہونی چاہیے۔ یواین ایچ سی آر، افغان حکومت، پاکستان حکومت، وہ تینوں فریق اس پر بات کر رہے ہیں ، کیسے اس واپسی کو مستحکم کر یں کیا کر سکتے ہیں اس میں بین الااقوامی برداری کیا مددکر سکتی ہے۔"

دینیش شیر یستا کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزین اب تک اُن علاقوں میں واپس گئے ہیں جہاں امن بحال ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال کے دوران تمام پناہ گزینوں کو افغانستان واپس بھیجنے سے مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ ایران سے بھی پناہ گزین واپس وطن آئیں گے جب کہ افغانستان کے اندر بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور اُن کو بھی اپنے گھروں میں آباد کرنا ہے۔

پاکستان کی سرحدی امور اور ریاستوں کی وزارت کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لئے دو سالہ منصوبہ تیا ر کر رہی ہے جس کی تفصیلات طے کی جارہی ہیں۔ یواین ایچ سی اس حوالے سے تو قع کر رہا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے درپیش تمام مسائل کو مدنظر رکھ کر یہ منصوبہ وضع کیاجائے گا۔

تاہم بلوچستان میں افغان پناہ گزین اپنے ملک میں بدامنی کے باعث اپنے اور خاندان کے افراد کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ حال ہی میں افغانستان سے واپس لوٹنے والے سرانا ن مہاجر کیمپ میں مقیم حیات خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ابھی امن قائم نہیں ہوا اور رہنے کےلئے لوگوں کے پاس ابھی گھر بھی نہیں ہیں۔

"وہاں حکومت کی جانب سے واپس اپنے وطن پہنچنے والوں کےلئے کو ئی اراضی دی گئی ہے نہ کو ئی کاریز (زیر زمین پانی کو بروئے کار لانے کا ذریعہ) بنایا گیا ہے اور نہ امن قائم ہوا ہے، میں اُمید کر تا ہوں کہ ہمیں یہاں پاکستان میں مزید کچھ وقت دیا جائےگا ،اس دوران وہاں (افغانستان ) میں درپیش مشکلات حل ہوجائیں گی ، پھر ہم بالکل جائیں گے۔"

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق بلوچستان میں 330,000 افغان پناہ گزین آغاز میں رجسٹر کئے گئے تھے۔ ان پناہ گزینوں کو صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم دس کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی مدت 31 دسمبر 2017ء تک بڑھا دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG