رسائی کے لنکس

صنعتی پارک میں کام کی معطلی ’اعلان جنگ‘ ہے: شمالی کوریا


جنوبی کوریا کا ایک ٹرک شمالی کوریا کے شہر کائی سونگ جاتے ہوئے سرحدی چوکی سے گزر رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

جنوبی کوریا کا ایک ٹرک شمالی کوریا کے شہر کائی سونگ جاتے ہوئے سرحدی چوکی سے گزر رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

جنوبی کوریا کی حکومت نے شمال کی طرف سے راکٹ خلا میں بھیجنے کے بعد بدھ کو کائی سونگ میں آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے باشندوں کو وہاں سے نکلنے کے لیے ہفتے تک کا وقت دیا تھا۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی طرف سے کائی سونگ مشترکہ صنعتی پارک میں کام معطل کرنے کے اقدام کو ’’اعلان جنگ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس صنعتی پارک میں کام کرنے والے تمام جنوبی کوریائی باشندوں کو نکال رہا ہے اور وہاں کام کرنے والی جنوب کی تمام کمپنیوں کے اثاثے منجمد کر رہا ہے۔

جمعرات کو شمالی کوریا کی سرکاری کورئین سنٹرل نیوز ایجنسی نے ملک کے حکام کے حوالے سے کہا کہ صنعی پارک کو فوجی علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔

جمعرات کو ساز و سامان اور مال سے لدے جنوبی کوریا کے درجنوں ٹرک شمال میں واقع کائی سونگ صنعتی کمپلیکس سے ملک واپس آئے۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے شمال کی طرف سے راکٹ خلا میں بھیجنے کے بعد بدھ کو وہاں آپریشنز معطل کرتے ہوئے اپنے باشندوں کو وہاں سے نکلنے کے لیے ہفتے تک کا وقت دیا تھا۔

پارک میں سرگرمیاں معطل ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا آخری اہم منصوبہ ختم ہو گیا ہے جہاں 124 جنوبی کوریائی کمپنیاں لگ بھگ 55,000 شمالی کوریائی مزدوروں سے کام لیتی تھیں۔

یہ پارک 1950-53 کی جنگ کے بعد علیحدہ ہونے والے ان ممالک کے عوام کے درمیان روزانہ ملاقات کا نادر موقع فراہم کرتا تھا۔

اتوار کو ایک سیٹلائیٹ خلا میں بھیجنے کے بعد باقی دنیا سے کٹے شمالی کوریا کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

واشنگٹن سمیت دیگر ممالک نے کہا کہ یہ بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ ہے اور گزشتہ ماہ ہونے والے جوہری تجربے کی طرح اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے بدھ کی شام شمالی کوریا کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر معلومات کے تبادلے اور سلامتی کی کوششوں پر تعاون پر اتفاق کیا تھا۔

اس سے قبل امریکی سینیٹ نے شمالی کوریا پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے متفقہ طور پر ووٹ دیا۔

XS
SM
MD
LG