رسائی کے لنکس

دبئى : فلسطینی کمانڈر کے قتل میں ملوّث 15 نئے ملزم


دبئى کی پولیس نے پچھلے مہینے امارات میں حماس کے ایک چوٹی کے کمانڈر کی ہلاکت کے سلسلی میں 15 نئے مشتبہ افراد کو شناخت کیا ہے۔

بدھ کے روز اس واقعے کےبعد مشتبہ افراد کی کُل تعداد 26 ہوگئى ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ جن نئے مشتبہ افراد کو شناخت کیا گیا ہے، اُن کے پاس فرانس، برطانیہ، آئر لینڈ اور آسٹریلیا کے پاسپورٹ تھے۔ دبئى پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”دوست ملکوں“ نے کہا ہے کہ وہ پاسپورٹ ”غیر قانونی طور پر اور جعل سازی “ کے ساتھ جاری کیے گئے تھے۔

پولیس نے کہا ہے کہ نئے مشتبہ افراد میں ایسے 10 مرد اور پانچ عورتوں شامل ہیں، جنہوں نے مبیّنہ قاتلوں کے ٹولے کو نقل حمل اور سفر کی دوسری سہولتیں فراہم کی تھیں۔دبئى پولیس کا کہنا ہے کہ قاتلوں نے حماس کے کمانڈر محمود المبحوح کو 19 جنوری کو ایک مہنگے ہوٹل میں قتل کردیا تھا۔

شروع میں جن 11 افراد پر قتل میں ملوّث ہونے کا شبہ کیا گیا تھا، اُن کے پاس برطانیہ، آئر لینڈ، جرمنی اور فرانس کے پاسپورٹ تھے۔

یورپی یونین نے پیر کے روزاپنے ایک بیان میں اُس چھان بین کے ساتھ مکمل تعاون کا مطالبہ کیا ہے، جو اس وقت دبئى میں حکام کررہے ہیں۔

اسرائیل نےدبئى کے اس الزام پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے کہ اس قتل میں اسرائیل کی جاسوس ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔

منگل کے روز اسرائیلی حزبِ اختلاف کی لیڈرتسیپی لِفنی نے المبحوح کی ہلاکت کی تغریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پچھلے مہینے محمود المبحوح کی ہلاکت، اُن لوگوں کے لیے ایک خوش خبری تھی جو دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اور منگل کے روز ہی ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے دبئى قتل کی مذمّت کرتے ہوئے اسے ” اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی“ قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG