رسائی کے لنکس

حماس اور فتح میں سمجھوتہ کے ممکنہ اثرات

  • آندرے ڈیننسیرا

حماس اور فتح میں سمجھوتہ کے ممکنہ اثرات

حماس اور فتح میں سمجھوتہ کے ممکنہ اثرات

برسوں سے، حماس اسرائیل کے خلاف بمباری، خود کش حملے اور راکٹوں کے حملے کرتی رہی ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل فوجی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ گذشتہ اپریل سے حماس اور اسرائیل کے درمیان غیر سرکاری جنگ بندی قائم ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی نظر میں حماس دہشت گرد گروپ ہے، اگرچہ حماس سماجی خدمات کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی چلاتی ہے۔

اس مہینے کے شروع میں دو حریف فلسطینی تنظیموں حماس اور فتح نے اختیارات کی تقسیم کے ایک سمجھوتے پر اتفاق کیا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ نیا سمجھوتہ ان دونوں تنظیموں کے درمیان اختلاف ختم کرنے کی جانب ایک اور قدم ہے۔

سیکولر فتح تحریک کے سربراہ محمود عباس ہیں جو فلسطینی اتھارٹی کے صدر بھی ہیں۔ مغربی کنارے میں ان کی حکومت قائم ہے۔ وہ جنوری 2005ء سے برسر اقتدار ہیں اور فتح تحریک کے بانی مرحوم یاسر عرفات کے جانشین ہیں۔

عسکریت پسند گروپ حماس کو اسلامی مزاحمتی تحریک بھی کہا جاتا ہے اور وہ غزہ کی پٹی کی منتخب شدہ حکمران پارٹی ہے۔

برسوں سے، حماس اسرائیل کے خلاف بمباری، خود کش حملے اور راکٹوں کے حملے کرتی رہی ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیل فوجی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ گزشتہ اپریل سے حماس اور اسرائیل کے درمیان غیر سرکاری جنگ بندی قائم ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی نظر میں حماس دہشت گرد گروپ ہے، اگرچہ حماس سماجی خدمات کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی چلاتی ہے۔

مہینوں کے مذاکرات کے بعد، دونوں گروپوں نے اتفاق کیا کہ مسٹر عباس قومی اتحاد کی حکومت کی قیادت کریں گے۔ یہ حکومت اس سال کے آخر میں نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تیاری کرے گی۔ اس سمجھوتے پر قطر کے دارالحکومت دوحا میں دستخط ہوئے۔ ماہرین کہتےہیں کہ اس طرح گزشتہ مئی میں مصر کی وساطت سے ہونے والے سمجھوتے کی ایک بنیادی شرط پوری ہو گئی ہے۔

لندن اسکول آف اکنامکس میں مشرق وسطیٰ کے ماہر فواز گجریس نے اقتدار میں شرکت کے اس سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن انھوں نے محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

’’ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ فتح اور حماس اپنے اختلافات الگ رکھ کر، مصالحت کا اور حکومت میں شرکت کا عمل شروع کر سکتےہیں یا نہیں۔ اور اگرچہ سمجھوتے میں مصالحت کی بات کی گئی ہے، لیکن آپ غزہ میں فتح کو اختیارات کیسے دے سکتے ہیں جب کہ وہاں حماس کی حکومت قائم ہے۔ کیا محمود عباس غزہ پر حکومت کر سکیں گے؟ کیا حماس غزہ میں اپنا اختیار ختم کر دے گی؟ اس کے علاوہ، حماس کے اندر، اور فتح کے اندر بھی اختلافی آوازیں موجود ہیں۔ لہٰذا اگرچہ اس سمجھوتے سے ، کم از کم علامتی اور سیاسی اعتبار سے، پیش رفت تو ہوئی ہے، لیکن اصل صورتِ حال کا پتہ تفصیلی عمل در آمد کے بعد ہی چلے گا‘‘۔

فواز کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ان دونوں فلسطینی دھڑوں نے اپنے اختلافات پس پشت ڈالنے کا وعدہ کیا ہے۔

’’پرانے سمجھوتوں اور قطر میں ہونے والے سمجھوتے کے درمیان فرق یہ ہے کہ فلسطین میں اور خود اس علاقے میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ میں تو یہ کہوں گا کہ عرب موسم بہار کی تحریک سے پیدا ہونے والی بیداری کا حماس کی قیادت پر بہت بڑا اثر پڑا ہے۔ حماس کی قیادت اب خود کو مخالف قوتوں سے گھرا ہوا محسوس نہیں کرتی، جیسا کہ وہ تیونس، مراکش اور مصر میں اسلام پسندوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے محسوس کرتی تھی۔ حماس اب یہ محسوس کرتی ہے کہ اب اسے اسٹریٹجک گہرائی مل گئی ہے اور مصر اب اس کا مخالف نہیں ہے، جیسا کہ وہ مبارک کے دور میں تھا‘‘۔

بہت سے ماہرین، جن میں نیو یارک یونیورسٹی کے مشرقِ وسطیٰ کے ماہر آلون بینمائیز کہتے ہیں کہ حماس میں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور وہ تشدد سے دور جار رہی ہے۔

’’انہیں مصر کی اخوان المسلمین نے بھی یہی مشورہ دیا ہے اور حال ہی میں اردن کے شاہ عبداللہ، اور یقیناً قطر کے امیر نے یہی کہا ہے کہ اگر وہ تشدد کو ترک نہیں کریں گےتو ان کی فلسطینی مہم کا خاتمہ ہو جائے گا، کیوں کہ اس نازک موڑ پر اور خاص طور پر اس وقت، اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ سے کی جانے والی کسی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کرے گا۔ میرے خیال میں وہ یہ بات خوب سمجھتے ہیں‘‘۔

آلون بینمائیز کہتے ہیں کہ فتح کے پاس حماس سے یہ کہنے کے لیے معقول وجہ موجود ہے کہ اسے تشدد کا راستہ ترک کر دینا چاہیئے۔

’’اگر آپ رملا یا جینین یا مغربی کنارے کے دوسرے شہروں میں جاتے ہیں، تو آپ کو ان کی ترقی دیکھ کر شدید حیرت ہو گی۔ انھوں نے بنیادی سہولتوں میں، شاہراہوں کی تعمیر میں، ریستورانوں اور دوسری چیزوں میں زبردست ترقی کی ہے اور وہ یہ سب چیزیں کھونا نہیں چاہیں گے۔ لہٰذا ، میں یہ تصور نہیں کر سکتا کہ فتح حماس کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ کرے گی جس سے اسرائیلیوں کے خلاف تشدد کی آگ پھر بھڑک اٹھے‘‘۔

لیکن اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیرجان بولٹن کے خیال میں حماس کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

’’وہ جانتے ہیں کہ انہیں تبدیل ہونے کے لیے کیا کرنا ضروری ہو گا۔ انہیں اسرائیل کی مملکت کو تسلیم کرنا ہوگا، پرانے سمجھوتوں کو قبول کرنا ہوگا اور دہشت گردی سے دستبردار ہونا ہو گا۔ اور کم از کم اب تک، انھوں نے ان میں سے کچھ بھی نہیں کیا ہے‘‘۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ فتح اور حماس کے درمیان بڑھتا ہوا اتحاد، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، لیکن ایسا صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب تشدد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

XS
SM
MD
LG