رسائی کے لنکس

حماس نے اسرائیل پر اپنے کمانڈر کے قتل کا الزام عائد کردیا


حماس کے جلا وطن دہنما خالد مشعال ماسکو میں اخباری کانفرنس کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

حماس کے جلا وطن دہنما خالد مشعال ماسکو میں اخباری کانفرنس کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

حماس کے جلا وطن لیڈر خالد مشعل نے بدھ کے روز وِڈیو رابطے کے ذریعے دمشق میں تقریر کرتے ہوئےاسرائیل پر محمود المبحوح کے قتل کا الزام عائد کیا

عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس کے ہزاروں حامیوں نے حماس کے ایک چوٹی کے کمانڈر کی ہلاکت پر اسرائیل سے انتقام لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

حماس کے جلا وطن لیڈر خالد مشعل نے بدھ کے روز وِڈیو رابطے کے ذریعے دمشق میں تقریر کرتے ہوئےاسرائیل پر محمود المبحوح کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔

حماس کی مسلح شاخ کے نقاب پوش ارکان نے یہودی مملکت کے خلاف بھی اپنی برہمی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کے خلاف اگرچہ باضابطہ طور پر کوئى الزام عائد نہیں کیا گیا ۔ لیکن غزہ کی پٹی میں مبحوح کے بھائى فائق مبحوح سمیت سے بہت سے لوگوں نے اُن کی ہلاکت کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ یہ سمجھنے کی کوئى وجہ نہیں کہ پچھلے مہینے دوبئى کے ایک ہوٹل میں مبحوح کی ہلاکت میں اُن کے ملک کی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔ایوِگ دَور لِبرمین نے کہا ہے کہ کوئى بھی انہیں ہلاک کرسکتا تھا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی اور برطانوی، دوہری شہریت رکھنے والے سات افراد کے حوالے سے کہا ہے کہ اُن کی شناختوں یعنی نام ، تاریخِ پیدائش اور گھر کے پتے جیسی ذاتی اطلاعات کو چُرایا گیا تھا اور پھر اُنہیں اُن جعلی پاسپورٹوں میں استعمال کیا گیا تھا جو مبیّنہ قاتلوں نے دوبئى جانے کے لیے استعمال کیے تھے۔ اُن میں سے ایک اسرائیلی شہری نے کہا کہ اُسے یہ جان صدمہ پہنچا کہ اُس کا نام قاتلوں کی فہرست میں شامل ہے۔

لندن میں برطانوی دفترِ خارجہ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرکے مبحوح کے مبیّنہ قاتلوں کی جانب سے جعلی پاسپورٹوں کے استعمال کے معاملے پر بات کی ہے۔

اسرائیلی حکام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کوئى تبصرہ نہ کریں۔لیکن اسرائیلی انٹیلی جینس کے بعض سابق اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک کرنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے گئے، وہ اُن طریقوں سے مطابقت رکھتے ہیں ، جو موساد ماضی میں استعمال کرتی رہی ہے۔

مبحوح کی ہلاکت کے ساتھ اسرائیل کے ممکنہ تعلق کے دعوے اُس وقت منظرِ عام پر آئے تھے جب پیر کے روز دوبئى کی پولیس نے یورپی ملکوں کے پاسپورٹ رکھنے والے 11 مشتبہ قاتلوں کو شناخت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان مشتبہ افراد میں سے چھ کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہیں، تین کے پاس آئر لینڈ کے اور باقی دو میں سےایک کے پاس جرمنی اور دوسرے کے پاس فرانس کا پاسپورٹ ہے۔

دوبئى میں حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ مشتبہ افراد نے اُسی ہوٹل کے مقابل جس میں مبحوح مقیم تھے، سڑک کے اُس پارایک دوسرے ہوٹل میں ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا، وہ اُن کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتے رہے تھے اور قتل کے فوراً ہی بعد متحدہ عرب امارات سے چلے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG