رسائی کے لنکس

رمی حمد اللہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کی حیثیت رکھتے ہیں، جس کی مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر خودمختار حکومت قائم ہے، جس میں فلسطینیوں کے روزمرہ کے معاملات شامل ہیں

نئے فلسطینی وزیر اعظم نے جمعرات کے روز صدر محمود عباس کو اپنا استعفیٰ پیش کیا، جس کی وجہ اختیارات کا تنازع بتائی جاتی ہے۔

وہ دو ہفتے قبل اِس عہدے پر فائز ہوئے تھے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں آیا رمی حمداللہ، جو یونیورسٹی کے سابق ڈین رہ چکے ہیں، سبکدوش ہوجائیں گے یا پھر استعفے کو مسٹر عباس سے زیادہ اختیارات کے حصول کی ایک دھمکی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

عباس کےدفتر نے اِس پر بیان دینے سے احتراز کیا، جب کہ اِس متعلق ابھی کچھ نہیں کہا گیا آیا مسٹر عباس حمد اللہ کے استعفے کو منظور کرلیں گے، جو بات فلسطینی صدر کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔

وزیر اعظم فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کا درجہ رکھتے ہیں، جس کی مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر خود مختار حکومت قائم ہے، جن کے پاس فلسطینیوں کے روز مرہ کے معاملات آجاتے ہیں۔

عباس اعلیٰ حکمراں ہیں جو سفارت کاری کے امور کو دیکھتے ہیں، جِن میں خاص طور پر فلسطینی ریاست کی سطح پر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ اجرا کی کوششیں شامل ہیں۔ بات چیت کا یہ سلسلہ 2008ء میں تعطل کا شکار ہوگیا تھا، تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری اِنھیں پھر سے شروع کرنے کے کوشاں ہیں۔

حمد اللہ نے چھ جون کو یہ عہدہ سنبھالا، جس سے قبل مسٹر عباس نے غیر متوقع طور پر اُنھیں شعبہٴتدریس سے چُنا، تاکہ وہ بین الاقوامی طور پر جانے پہچانے وزیر اعظم سلام فیاض کی جگہ لے سکیں، جو اپریل میں مستعفی ہوگئے تھے۔

عباس نے حمد اللہ کو دو معاونین کی اجازت دی، جن میں سے ایک سیاسی اور دوسرے معاشی امور کو دیکھ سکے، جس کی بظاہر وجہ اُن کے سیاسی تجربے کا فقدان بتائی جاتی ہے۔

جمعرات کو حمداللہ کے دفتر نے بتایا کہ اُنھوں نے ’اختیارات کے تنازع پر‘ عباس کواستعفیٰ پیش کیا ہے ، تاہم اُنھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی۔

رمی حمد اللہ نابلس کی النجاح یونیورسٹی کے سربراہ اور انگریزی کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG