رسائی کے لنکس

اے ۔حمید: 'کمپنی باغ کا پھول'

  • اکمل علیمی

اے ۔حمید: 'کمپنی باغ کا پھول'

اے ۔حمید: 'کمپنی باغ کا پھول'

معروف ادیب اے حمید لاہور میں آج انتقال کرگئے۔ اے حمید نے کافی وقت واشنگٹن میں وائس آف امریکہ کی اردو سروس میں بھی گزارا۔ اے حمید کے دیرینہ دوست اورسابق رفیق کار جناب اکمل علیمی نے اے حمید کی وفات پر ایک تاثراتی مضمون لکھا ہے جو شکریے کا ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ اکمل علیمی حال ہی میں سروس سے ریٹائر ہوئے ہیں، ایڈیٹر

اے ۔حمید‘ کمپنی باغ کا پھول

امام ناصر کی درگاہ کی زیارت اور جامعہ مسجد میں نمازظہر کی ادائیگی کے بعد رخصت ہونے لگا تو محکمہ اوقاف کے ایک کارکن نے مجھے تحفتہً ایک کتاب دی۔ ’ پنجاب و ہریانہ کی تاریخی مساجد‘ مولفہ عطا الرحمن قاسمی ‘ صفحات 608 مطبوعہ جے کے آفسٹ‘ جامعہ مسجد‘ دہلی۔

مولف نے امرتسر کی مسجدوں کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے اس شہر کے ’مشہور قلمکار‘ اے حمید کی تحریروں سے یہ اقتباس نقل کیا تھا ۔ ’امرتسر میرے لیے میرا بچھڑا ہوا یوروشلم ہے اور میں اس کی دیوار گریہ ہوں۔ مجھے امرتسر کا کچھ بھی یاد نہیں۔ یاد تو اسے آئے جو بھول گیا ہو۔ امرتسر تو میرے خون میں گردش کررہا ہے۔ امرتسر کو دیکھ کر سوتا ہوں اور صبح اٹھ کر سب سے پہلے اسی کا منہ دیکھتا ہوں۔ چلتا ہوں تو کمپنی باغ میرے ساتھ ہوتا ہے بیٹھتا ہوں تو سکتری باغ کے درخت مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہیں۔ بولتا ہوں تو مجھے امرتسر کی مسجدوں کی اذانیں سنائی دیتی ہیں۔ خاموش ہوتا ہوں تو امرتسر کی نہروں کا پانی سر گوشیاں کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ اپنے ایک ہاتھ کو دیکھتا ہوں تو اس پر اپنے محلے کی گلیاں خوابیدہ دکھائی دیتی ہیں۔اپنے دوسرے ہاتھ کو دیکھتا ہوں تو اس پر کمپنی باغ کے سارے پھول‘ سارے درخت‘ بہار کی ہوا میں مسکراتے نظر آتے ہیں ۔پچھلے دنوں ایک دوست امرتسر جانے لگے تو مجھ سے پوچھا کہ تمہارے لئے کیا لاؤں ۔میں نے کہا۔ میرے لیے کمپنی باغ کا ایک پھول لے آنا ۔‘

اقتباس کی آخری سطریں پڑھ کر میرا سر چکرا گیا اور جالندھر میں میرا جواں سال میزبان گورپریت سنگھ کوہلی گبھرا کر پوچھنے لگا ۔ ’انکل کیا بات ہے کتاب میں ایسی کیا بات لکھی ہے؟‘ میں نے کہا ۔ لاہور سے روانہ ہونے لگا تو اے حمید نے مجھ سے بھی وہی فرمائش کی جو اس سے پہلے وہ نہ جانے کتنے دوستوں سے کر چکا ہے ۔’میرے لئے کمپنی باغ کا ایک پھول لے آنا۔‘ گورپریت بولا ۔ ’ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔ کل آپ کو امرتسر جانا ہی ہے۔ کمپنی باغ بھی چلیں گے اور کسی مالی سے ایک پھول لے لیں گے آپ کے دوست کے لئے۔‘ وہ اپنی ہونڈا سی آر وی میں مجھے شہر شہر لئے پھرتا تھا اور موبائل فون پر اپنا کاروبار ،جائیدادوں کی خرید و فروخت، بھی کئے جا رہا تھا۔

اگلے دن ہم جالندھر سے امرتسر پہنچے۔ دربار صاحب دوبارہ دیکھا جہاں بطورایک غیر ملکی خاص سلوک کے مستحق پایا گیا۔ لمبی قطار میں لگے بغیر اکال تخت تک جا پہنچا۔ ہال بازار گئے ۔ مسجد خیر الدین دیکھی اور پھر کمپنی باغ میں گھس گئے۔ گورپریت نے ہیڈ مالی تلاش کیا اور اس کے سامنے اے حمید کی فرمائش رکھی۔ وہ ایک زندہ دل سکھ تھا اور دیوناگری رسم الخط میں اے حمید کے کچھ افسانے پڑھ چکا تھا۔ وہ بولا۔ 'حمید صاحب اس شہر کے باسی ہیں۔ ان کے لئے تو جان بھی حاضر(ہاجر)ہے۔ ان کے لیے ایک نہیں دس پھول لے جایئے اور امرتسریوں کے سلام کے ساتھ انہیں پیش کیجیے۔' میں نے گلاب کے دو پھول لئے اور شام ہونے سے پہلے واہگہ سرحد کا رخ کیا جہاں میرے پرانے رفیق کار چوہدری خادم حسین اپنی ( اب مرحومہ) اہلیہ کے ہمراہ میری واپسی کا انتظار کررہے تھے۔

جالندھر اور امرتسر, جہاں میرا بچپن گزرا میری یاداشتوں میں رچے بسے ہیں۔ میں خونریز بٹوارے سے چھ ہفتے قبل اپنے آبائی خطے سے نکل آیا تھا۔ ساٹھ سال کے بعد وطن واپس لوٹا تو دونوں شہروں کو بدلے ہوئے پایا۔ کچھ پہچان میں نہیں آرہا تھا۔ توسیع اور ترقی اسی طرح گلا گھونٹ رہی تھی جیسی کہ لاہور میں دیکھی جاتی ہے۔ ٹریفک کے گرڈ لاک اور فضا کی آلودگی بھی ویسی ہی تھی جیسی کہ زندہ دلوں کے شہر میں پائی جاتی ہے۔ اگلے روز سمن آباد میں اے حمید کے گھر پہنچا اور انہیں امرتسر کا سلام اور پھول پیش کر دئے۔ بہت خوش ہوئے۔ وہ حسب معمول‘ کتابوں کے ایک جنگل میں اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے ایک باادب لڑکا وہاں موجود تھا اور خاموش تھا۔ میں نے پوچھا۔ کیا یہ (گلوکار) شوکت علی کا بیٹا ہے تو حمید بولے۔ 'ہاں, تم نے خوب پہچانا ۔ یہ اپنے باپ کی خوردہ تصویر ہے۔ مگر پڑھ رہا ہے۔ ادب کا بھی شوق ہے۔ اکثر ملنے چلا آتا ہے۔'

تقسیم ہند کے بعد امرتسرسے جو لاکھوں لوگ لاہور منتقل ہوئے ان میں اے حمید کے علاوہ سعادت حسن منٹو, سیف الدین سیف, عارف عبدالمتین, ضبط قریشی, ظہیر کاشمیری‘ احمد راہی , احمد مشتاق, شہزاد احمد شہزاد, حسن طارق, مظفر علی سید, اورکئی دوسرے اہل قلم شامل تھے اور ستم ظریف چھیڑنے کے لئےاس گروپ کو امرتسری اسکول آف تھاٹ کہتے تھے۔ اے حمید نے پڑھنے پر دیکھنے کو ترجیح دی۔ ان کے ایک بہنوئی (کیپٹن) ممتاز ملک برٹش انڈیا کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے وابستہ تھے۔ امرتسر سے بھاگ کر وہ دوسری عالمی لڑائی کے مشرقی تھیٹر پہنچے اور کیپٹن صاحب کی سرپرستی میں رنگون اور کولمبو سے ریڈیو کی پراپیگنڈہ نشریات میں حصہ لیتے رہے لاہور آکر انہوں نے اپنا پہلا افسانہ ’تعریف اس خدا کی‘ لکھا جو رسالہ ادب لطیف میں جس کے مدیر عارف عبدالمتین تھے شائع ہوا۔ منزل منزل اور حسن اور روٹی کی اشاعت کے بعد ان کی شہرت عام ہو گئی۔ منٹو نے کہا۔ ’اے حمید بکواسی ہے۔ وہ کھمبے کو دیکھ کر بھی رومانٹک ہو جاتا ہے‘۔مضامین کے مجموعے ’یادوں کے گلاب‘ میں لکھتے ہیں۔ ’چنانچہ میرے افسانوں کے دوسرے مجموعے [خزاں کا گیت] کا سر ورق چھپا تو اس کے فلیپ پر میں نے اپنے افسانوں کے بارے میں احمد ندیم قاسمی اور کرشن چندر کے علاوہ منٹو صاحب کی یہی رائے ہو بہو لکھ دی۔‘

’بچھڑی ہوئی محبتوں کے راستے‘ یہ عنوان ہے ان کی ایک تحریر کا جو ان کے مجموعہ مضامین ’لاہور کی یادیں‘ میں شامل ہے۔ امرتسر سے وابستگی کے دوران ہی انہیں لاہور سے عشق ہو گیا تھا اور ان کی مشہور ہیروین واجدہ اسی شہر کی رہنے والی تھی اور جس نے مصنف سے التجا کی تھی۔ حمید صاحب میری محبت کی کہانی مت لکھنا میں بد نام ہو جاؤں گی۔ اس انشائیے میں وہ ایک رومان پرست اہل قلم کی تعریف کرتے ہیں۔ مضمون سےایک اقتباس۔ ’ان درختوں کا اصل نام مجھے معلوم نہیں مگر ہم انہیں چڑی پھول والے درخت کہتے تھے۔ یہ درخت لاہور کی کسی دوسری سڑک پر بہت ہی کم نظر آتے ہیں۔ بہار کے آخری دنوں میں ان پھولوں کی پنکھڑیاں گرنے لگتیں اور ڈیوس روڈ کے خاموش اور دور تک خالی خالی فٹ پاتھوں پر ان پھولوں کا سرخ قالین بچھ جاتا, ہم نے کبھی ان دنوں میں فٹ پاتھ پر چلنے کی بے ادبی نہیں کی بلکہ فٹ پاتھ چھوڑ کر سڑک پر چلتے اور پھولوں کے زندہ قالین کو نظارہ کرتے چلے جاتے۔‘

میں واشنگٹن سے مہینے میں دو تین بار اے حمید کے گھر فون کرتا تھا ۔ پہلے ان کی رفیقہ حیات ریحانہ (جنہیں وہ حفیظہ کہتے تھے) سے گپ شپ ہوتی تھی اور پھر وہ فون ’حمید صاحب‘ کو دے دیتی تھیں۔ ان کی آواز کا کرارا پن ان کی ضعیف العمری کی نفی کرتا تھا اور ہر مو قع پر ایک دو لطیفے سنا دیتے تھے.

فروری کے شروع میں انہوں نے خوش ہو کر بتایا کہ عطاالحق قاسمی نے قصر ثقافت میں ان کے ساتھ ایک شام منائی جس میں حمید اختر اور انتظار حسین نے ان کے تخلیقی کارناموں کا تذکرہ کیا۔ حمید اختر نے تو واشنگٹن میں اپنے قیام کے بارے میں کچھ ایسی باتیں بھی کہہ دی تھیں جو میں نے اپنے پرانے رفیق کار کو بتائی تھیں۔ انتظار حسین نے کہا کہ بیسویں صدی نے اردو کے تین رومانوی اہل قلم پیدا کئے ناصر کاظمی، منیر نیازی اور اے حمید۔

اے حمید سے میری دوستی کا باقاعدہ آغاز پچاس کے عشرے کے شروع میں ہوا جب میں روزگار کے سلسلے میں ریگل کے چوک سے ذرہ آگے ٹمپل روڈ پر اخبار ترجمان کے دفتر پہنچا۔ وہ وہاں نیوزایڈیٹر تھے۔ مجھے دیکھ کر بولے۔ ’اچھا ہوا تم آ گئے۔ خبروں کا ترجمہ شروع کرو۔ میں ابھی آتا ہوں۔‘ وہ نہ جانے کہاں گئے کہ پھر لوٹ کر اس دفتر میں نہ آئے۔ یہ ایک اخبار کے دفتر میں میرا پہلا دن تھا۔ میں غلط سلط ترجمہ کرتا رہا۔ تین چار کاتب پیلے کاغذ پر لکھتے رہے۔ آدھی رات ہو گئی۔ ہیڈ کاتب نے مجھ سےکہا ۔’پریس کا وقت ہو گیا ہے۔ لگتا ہے کہ حمید صاحب نہیں آئیں گے۔ آپ کاپی جوڑئیے۔‘ ۔میں گبھرا گیا میں نے اب تک کسی اخبار کی کاپی نہیں جوڑی تھی۔ طوعاًکرہاًٍ ہیڈ کاتب کی راہنمائی میں کتابت شدہ خبریں الگ الگ کیں۔ اہمیت کے اعتبار سے انہیں پہلے اورآخری صفحات پر جوڑا اور کاپی پریس چلی گئی۔ چند روز بعد اے حمید مجھے پاک ٹی ہاؤس میں مل گئے۔ میں نے پوچھا کہ مجھے پھنسا کر آپ کہا ں روپوش ہو گئے تھے؟ تو انہوں نے جواب میں ترجمان کو ایک موٹی سی گالی دی اورچائے کی پیالی میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے۔ ’ جب تک با تنخواہ نوکری نہیں ملتی تم وہاں لگے رہو۔‘ لطیف انوراس اخبار کے ایڈیٹر اور حمید جہلمی ان کے نائب تھے مگر ایسے پیارے لوگوں کی موجودگی کے باوجود میں بھی ایک دو ماہ بعد ترجمان کو چھوڑ کراحسان میں چلا گیا جہاں وقار انبالوی ایڈیٹر تھے اور میری درسگاہ (اورینٹل کالج) قریب تھی۔

پاکستان میں لکھنے کوذریعہ معاش بنانا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ منٹواور اے حمید کے بعد انتظار حسین اردو فکشن کی آبرواورادب کے نوبیل پرائز کے حقدار ہیں مگر ان کی کتاب بھی دو ہزار سے زیادہ تعداد میں نہیں چھپتی چنانچہ بیشتر اہل قلم نے ماہوار معاوضہ دینے والے اداروں میں ملازمت اختیار کی۔ حفیظ جالندھری‘ تیغ الہ آبادی (مصطفے زیدی) قدرت اللہ شہاب, الطاف گوہر, ن م راشد‘ مسعود مفتی‘ مختار مسعود‘ عبدالحمید عدم‘ جمیل الدین عالی ‘ممتاز مفتی‘ ابن انشااور دوسروں نے جدید تعلیم کے بل پر سرکاری ملازمتیں حاصل کیں۔ فیض احمد فیض، صوفی غلام مصطفے تبسم‘ قیوم نظر‘ انجم رومانی‘ عابد علی عابد ‘ شہرت بخاری اور دوسرے دانشور کالجوں میں پڑھانے لگے۔ قتیل شفائی اور تنویر نقوی نے فلمی دنیا کا رخ کیا احسان دانش نے کتابوں کی دکان کھولی۔ استاد دامن‘ حبیب جالب اور ساغر صدیقی کچھ نہ کر پائے مگر شاعری کے کوچے میں نام کمایا۔ ادب اور صحافت میں ایک مضبوط رشتے کی روایت آزادی کے حصول سے پہلے سے چلی آ رہی تھی جس نے مولانا ظفر علی خان‘ عبدالمجید سالک‘ غلام رسول مہر ‘ چراغ حسن حسرت اور مرتضی احمد خان میکش جیسے چاند تارے پیدا کئے تھے ۔ اس روایت کو سعادت حسن منٹو ‘ رئیس امروہوی ‘ احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین نے آگے بڑھایا اور آخر میں شوکت تھانوی‘ میرزا ادیب‘ ناصر کاظمی‘ اشفاق احمد‘ ابو الحسن نغمی اور اے حمید ریڈیو پاکستان میں پائے گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یار لوگوں نے اے حمید کو ’اسٹاف آرٹسٹ یونین‘ کا صدر چن لیا تھا۔ ریڈیو کا اسٹاف آرٹسٹ ٹھیکے پر کام کرتا تھا اور اس کی تنخواہ بالعموم پروڈیوسر سے بھی کم ہوتی تھی۔

وائس آف امریکہ سے مستقل وابستگی کے بعد میں نے اے حمید کو واشنگٹن لانے کی کوشش کی جو سن اسّی کے وسط میں کامیاب ہوئی اور وہ دو سال کے کانٹریکٹ پر امریکہ آئے۔ میری رہائش ڈیل سٹی ورجینیا میں تھی۔ وہ گھر کے ڈیک پر سیب اور آلوچے کے درختوں کی شاخوں کو جھکے پاکر بے حد خوش ہوئے۔ گویا ان کے دیرینہ رومانوی خوابوں کی تعبیر سامنے تھی۔ شام ہونے کے بعد ہم اس ڈیک پر بیٹھ کر روشنی کرتے اور لاہور کی یادیں تازہ کرتے تھے۔ چند روز میں وہ اداس ہو گئے اور یہ کہہ کر مجھے حیران و پریشان کر دیا کہ میں وطن واپس جانا چاہتا ہوں۔ میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگے کہ حفیظہ اور بچے یاد آنے لگے ہیں۔ چند ماہ میں کنبہ بھی ان سے آملا اور وہ ولسن بلیوارڈ پر کرائے کے ایک اپارٹ منٹ میں رہنے لگے۔ اب ان کی زندگی گھر اور دفتر تک محدود تھی۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ واشنگٹن آئے تو انہوں نے مجھے فون کیا۔ وہ اے حمید سے ملنا چاہتے تھے۔ میں نے حمید کو بتایا تو وہ بیزاری سے بولے 'دفع کرو, کون میری لینڈ جائے گا؟ تم گھر آ جانا ۔حفیظہ چائے بنائیں گی اور ہم دونوں بھائی مل کر پئیں گے۔‘

واشنگٹن میں ہمارا ایک مشغلہ People Watching تھا۔ سن پچاس کے عشرے کے اواخر میں جب میں روزنامہ امروز کے ادارتی انتظامات کے لئے لاہور سے ملتان گیا تو مجھے یہ فن مختار مسعود نے سکھایا تھا جو وہاں ڈپٹی کمشنر تھے اور میں صبح کی سیر ان کے ساتھ کرتا تھا۔ اے حمید نے اس میں اجنبیوں میں جانے پہچانے چہرے تلاش کرنے کا اضافہ کیا۔ ایک روز ہم ایک پرہجوم سڑک پر جا رہے تھے کہ انہوں نے میرے کان میں کہا۔ 'وہ دیکھو کشور ناہید جا رہی ہیں۔' شاید وہ لاہور میں چھوڑے ہوئے دوستوں کی کمی محسوس کرتے تھے۔

ایک شام کام سے فارغ ہو کر میں نے اپنی گاڑی ایک پارکنگ لاٹ میں چھوڑی اور پاس ہی ہم ایک رستوران میں بیٹھ گئے۔ تا دیر باتیں ہوتی رہیں۔ ڈھاکے کی ,بنگال کی ,لاہور کی ,مری کی۔ آدھی رات ہو چکی تو ہم باہر نکلے ۔ پارکنگ لاٹ کو تالہ لگا ہوا تھا مگر تالے کے پاس لکھا تھا۔ یہ پارکنگ لاٹ گیارہ بجے رات بند ہو جاتا ہے اور تالے کی چابی سامنے پولیس اسٹیشن پہنچا دی جاتی ہے۔ اگر آپ تاخیر سے لوٹیں اور اپنی گاڑی اندر پائیں تو پولیس اسٹیشن سے رجوع کریں۔ میں نے اے حمید سے کہا۔ ’آپ یہیں ٹھہریں میں تھانے سے چابی لاتا ہوں۔‘ میں سڑک کے پار ڈی سی پولیس ڈسٹرکٹ ایک میں گیا اور استقبالیہ میں ڈیوٹی دینے والی خاتون افسر سے اپنی مشکل بیان کی تو اس نے ایک صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ آپ وہاں تشریف رکھیئے جس افسر کے پاس پارکنگ لاٹ کی چابی ہے وہ ذرا باہر گیا ہے ابھی آ جائے گا۔ میں نے صوفے پر 'تشریف' رکھی۔ انتظار قدرے طویل ہو گیا لیکن بالاخر وہ پولیس افسر آ گیا اور مجھے منتظر پاکر جلدی سے چابی نکال کر میرے ساتھ ہو لیا۔ اس نے پارکنگ لاٹ کا تالا کھولا۔ میں نے گاڑی نکالی مگر اے حمید اپنی جگہ سے غائب تھے۔ میں نے گاڑی میں بیٹھ کر ان کی تلاش شروع کی۔ آس پاس کی کئی گلیاں چھان ما ریں۔ اے حمید کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ جوئیندہ یابندہ۔ پندرہ منٹ علاقے میں گاڑی دوڑانے کے بعد میں نے انہیں ایک گھر کی دیوار کے اوٹ میں کھڑے دیکھا۔ میں نے پوچھا۔ 'آپ وہاں سے کیوں چلےآ ئے' تو وہ بولے ۔ ’میں ڈر گیا تھا۔‘ کس لئے؟ میں نے پوچھا۔ ’میں سمجھا تمہیں پولیس نے پکڑ لیا ہےاور میری بھی خیر نہیں۔‘

وائس آف امریکہ کے ساتھ معاہدے کی میعاد ختم ہونے پر وہ ہنسی خوشی وطن واپس چلے گئے۔ چند سال کے بعد میں لاہور گیا تو وہ سکون سے بولے۔ 'امریکہ میں رہ کر میں نے آٹھ گھنٹے روزانہ کام کرنا سیکھا۔' واقعی وہ روزانہ آٹھ گھنٹے لکھتے تھے اور اپنی تحریروں کے معاوضے پر اپنے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ مگر انہوں نے اس دور کی کوئی کتاب مجھے نہیں دی۔ سنا ہے کہ ’امیریکانو‘ جیسی غیر معیاری کتابیں میرے تذکرے سے پرُ ہیں۔

خالد حسن مرحوم نے اپنے ترجموں سے منٹو اور فیض کے بعد اردو کے جس ادیب کو انگریزی بولنے والی دنیا سے متعارف کرایا وہ اے ۔ حمید ہیں۔ حمید کے انشائیوں کا انگریزی ترجمہ شائع ہو چکا ہے اور ایک قدر دان نے انکی کچھ کتابیں انٹر نیٹ پر بھی ڈال دی ہیں۔ یہ شخص ان کے گھر گیا اور ا نکی خدمت میں ایک چیک پیش کیا۔ اردو کے بیشتر پرانے اہل قلم کی طرح وہ بھی کمپیوٹر کی ایجاد سے بے خبر تھے۔ انہوں نے فون پر اس معاہدے کا واقعہ بہت حیرت اور خوشی سے سنایا۔ میرا خیال ہے کہ مرتے وقت اے۔حمید کی مالی حالت منٹو سے بہتر تھی۔

XS
SM
MD
LG