رسائی کے لنکس

حامد کرزئی آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے


سابق افغان صدر حامد کرزئی (فائل فوٹو)

سابق افغان صدر حامد کرزئی (فائل فوٹو)

سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تمام معاملات سیاسی طور پر باہمی ہم آہنگی کے ساتھ آسانی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم نوازشریف کی دعوت پر آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

کابل میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے اچھےتعلقات دونوں پڑوسی ملکوں کے مفاد میں ہیں۔

انھوں نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی دہائیوں تک میزبانی کرنے پر پاکستان کو سراہا لیکن ساتھ ہی انھوں نے افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی پر اپنے اس پڑوسی ملک کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔

حامد کرزئی 2001ء سے 2004ء تک افغانستان کے عبوری صدر رہے اور اس کے بعد سے وہ 2014ء تک اس ملک کے منتخب صدر کے منصب پر فائز رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "دباؤ ڈالنے جیسے اقدام کی بجائے پاکستان کو افغانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مضبوط کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔"

دونوں ملک ایک دوسرے پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ غیر ریاستی عناصر کو اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور اسی بنا پر ان کے درمیان تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار بھی رہے ہیں۔

سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تمام معاملات سیاسی طور پر باہمی ہم آہنگی کے ساتھ آسانی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔

جب ان سے افغانستان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر پاکستان کے تحفظات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ "افغانستان نے کبھی بھی پاکستان کے کسی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات پر اعتراض نہیں کیا۔" ان کے بقول پاکستان کو اپنے پڑوسیوں کے خودمختار حقوق پر اعتراض کا حق نہیں۔

پاکستان یہ الزام عائد کرتا ہے کہ بھارت، افغانستان کی سرزمین اس کے خلاف استعمال کر رہا ہے لیکن نئی دہلی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں جو ان دنوں لندن میں دل کے آپریشن کے بعد اسپتال میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG