رسائی کے لنکس

حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ کہنا خلاف اسلام ہے: سنی اتحاد


’سنی اتحاد کونسل‘ کے علما بورڈ کے اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن قرآنی اصطلاحات کا تمسخر نہ اڑائیں۔ ’ شہید کی اصطلاح کا مذاق اڑانا اسلام کی توہین ہے‘

تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے حکیم اللہ محسود ’شہید‘ ہیں یا نہیں، پاکستان میڈیا اور مقامی سیاستدانوں کے درمیان پچھلے کئی دنوں سے جاری یہ بحث آخر کار جمعہ کو سنی اتحاد کونسل نے یہ کہہ کر سمیٹ دی ہے کہ وہ ’شہید‘ نہیں ہوئے، انہیں شہید کہنا ’اسلامی تعلیمات کے منافی ہے‘۔

سنی اتحاد کونسل کے 30سے زائد علما نے جمعہ کو ایک مشترکہ فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کو شہادت قراد دینا اسلامی قوانین کے منافی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’ڈرون حملے بدترین ظلم سہی، لیکن ان حملوں کو جواز بنا کر خود کش حملے کرنا جرم ہے‘۔

سنی اتحاد کونسل کے علما بورڈ کی جانب سے جاری اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ،’ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ، مولانا فضل الرحمٰن قرآنی اصطلاحات کا تمسخر نہ اڑائیں، شہید کی اصطلاح کا مذاق اڑانا اسلام کی توہین ہےه۔

مولانا فضل الرحمٰن اور جماعت اسلامی کے رہنما منور حسن نے ایک بیان میں حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا تھا جس پر دو روز قبل سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا رضوی نے 100 سے زائد علما سے حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کو ’شہادت‘ قرار دینے کے حوالے سے شرعی رائے مانگی تھی، جس پر جمعہ کو30 سے زائد علما نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو شہید کہنا اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG