رسائی کے لنکس

مشکل فیصلوں کے بعد ہاتھ دھوئیے: ماہرین نفسیات

  • جمیل اختر

مشکل فیصلوں کے بعد ہاتھ دھوئیے: ماہرین نفسیات

مشکل فیصلوں کے بعد ہاتھ دھوئیے: ماہرین نفسیات

طبی ماہرین اکثر یہ مشورہ دیتے ہیں کہ صحت مند رہنے کے لیے اپنے ہاتھ ہمیشہ صاف رکھیں اور انہیں گاہے بگاہے دھوتے رہیں۔ سوائن فلو کی وبا پھوٹ پڑنے کے بعد ماہرین نے اس مرض سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ہاتھ دھونے کا مشورہ دیا تھا۔ اب حال ہی میں ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہاتھ دھونے سے صرف ہاتھ ہی صاف نہیں ہوتے بلکہ انسان کو اپنے فیصلوں پر اطمینان کا احساس بھی ہوتا ہے۔

نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے انہیں پتا چلا کہ جن افراد نے مشکل اور تکلیف دہ فیصلے کرنے کے فوراً بعد اپنے ہاتھ دھوئے تھے، وہ اپنے فیصلوں پر مطمئن اور خوش تھے بہ نسبت ان لوگوں کے جنہوں نے ہاتھ نہیں دھوئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عمل کے ذریعے نفسیاتی طورپران کے فیصلے کی ثوثیق ہوجاتی ہے اور خدشات دھل جاتے ہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہر نفسیات سپائیک لی(Spike Lee)، جنہوں نے اس مطالعاتی جائزے کی قیادت کی ، کہتے ہیں کہ کوئی اہم اور مشکل فیصلہ کرنے کے فوراً بعد اپنے ہاتھ دھولینے سےبظاہر اس فیصلے کے بارے میں دل میں موجود شکوک وشبہات بھی دھل جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اس مطالعے سے ظاہر ہوا کہ ہے اپنے ہاتھ دھونا ، اپنے دل میں موجود خدشات دھونے کی ایک علامت بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ جب آپ اپنے ہاتھ دھولیتے ہیں توآپ اپنے فیصلے پر اطمینان محسوس کرنے لگتے ہیں اور آپ کے ذہن کو اس پریشانی میں پڑنے کی ضرورت نہیں رہتی ، کہ اگر اس سے مختلف فیصلہ کیا جاتا تو وہ زیادہ بہتر ہوتا۔

جریدے سائنس میں شائع ہونے والے اس مطالعاتی جائزے میں رضاکار طالب علموں کے ایک گروپ پر تحقیق کی گئی ، اس گروپ کو گانوںکی 30 سی ڈیز دی گئیں اور انہیں کہا گیا کہ ان سی ڈیز کی اپنی پسند کے مطابق درجہ بندی کریں ۔ اس درجہ بندی کے بعد انہیں ان 30 میں سے 10 سی ڈیز منتخب کرنے کے لیے کہا گیا۔

اس انتخاب کے بعد انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی پسند کی پانچویں یا چھٹے نمبر کی سی ڈی اپنے لیے رکھ سکتے ہیں۔

اس کے بعد تحقیق میں شامل گروپ کے نصف ارکان سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہاتھ دھولیں۔

ماہرین کو معلوم ہوا کہ جن رضاکاروں نے سی ڈی چننے کے بعد اپنے ہاتھ دھوئے تھے ، وہ اپنے فیصلے پر خوش تھے، جب کہ اپنے ہاتھ نہ دھونے والے رضاکار اس تذبذب میں مبتلا تھے کہ اگر وہ دوسری سی ڈی لے لیتے تو ممکن ہے کہ وہ زیادہ بہتر فیصلہ ہوتا۔

تحقیق میں شامل ، یونیورسٹی آف مشی گن کے ایک اور ماہر نفسیات ڈاکٹر ناربرٹ شوارز(Norbert Schwarz) کا کہنا ہے کہ اپنے ہاتھ دھونے کے بعد ان رضاکاروں کو اپنے دماغ کو اپنے فیصلے پر مطمئن کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی اور وہ اپنے انتخاب پر خوش تھے۔

ماہرین نے اسی انداز کا ایک دوسرا تجربہ کیا ۔جس میں رضاکاروں کو مربہ چکھ کر یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کس کا ذائقہ زیادہ بہتر ہے۔اور اس کے بعد انہیں اپنے ہاتھ صاف کرنے تھے۔

مسٹر لی کہتے ہیں کہ جن رضاکاروں نے اپنی پسند کا جام منتخب کرنے کے بعد اپنے ہاتھ صاف نہیں کیے تھے، وہ بعد میں اس شش وپنج میں مبتلا تھے کہ ان کے پسند کردہ جام کا ذائقہ زیادہ بہتر تھا یا دوسرے جام کا۔ جب کہ جن رضاکاروں نے اس کے بعد اپنے ہاتھ دھو لیے تھے وہ اپنے فیصلے پر مطمئن تھے۔

مطالعاتی جائزے کے شریک مصنف پروفیسر ناربرٹ شوارز کہتے ہیں کہ ان نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح ہاتھ دھونے سے اس پر موجود آلائشیں دھل جاتی ہیں ، اسی طرح فیصلوں سے متعلق خدشات بھی ذہن سے صاف ہوجاتے ہیں اور ہمیں خود کو مطمئن کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

پروفیسر شوارز کہتے ہیں کہ ہاتھ دھونے کا عمل کار یا گھر کی خرید یا شریک حیات کے انتخاب جیسے انتہائی مشکل فیصلے پربھی اسی طرح اثر انداز ہوتا ہے جیسے کسی گانے کی سی ڈی کی خرید۔

XS
SM
MD
LG