رسائی کے لنکس

نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی کا عمر بڑھنے کی دیگر علامات مثلاً معذوری، ذہنی کمزوری یا موت کے ساتھ باہمی تعلق ہوسکتا ہے

عام طور پر ایک شخص کےگرم جوشی سے ہاتھ ملانے کے انداز کو اس کےدلی جذبات کی ترجمانی کا اظہار تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن، کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک سادہ سا مصافحہ آپ کی اصل عمر کا راز بھی کھول سکتا ہے۔

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک شخص کی حقیقی عمر کا اندازہ اس کے ہاتھ ملانے کے انداز سے لگایا جا سکتا ہے۔


آن لائن جرنل 'لائبریری آف سائنس ون' کی نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی کا عمر بڑھنے کی دیگر علامات مثلا معذوری، ذہنی کمزوری یا موت کے ساتھ باہمی تعلق موجود ہے۔


تحقیق کاروں کا دعوی ہے کہ سادہ سا 'ہینڈ شیک ٹیسٹ'حیاتیاتی عمر معلوم کرنے کے لیے ایک قابل عمل ٹیسٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔


آسٹریا کے ایک 'انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اپلائڈ سسٹم' کی ٹیم سے منسلک تحقیق کار ڈاکٹر وارن سینڈرسن نے لوگوں کے ہاتھ ملانے کے انداز سے حیاتیاتی عمر کے بارے میں پتا چلایا ہے، جن کا کہنا ہےکہ ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں بڑھتی عمر کے حوالے سے کئے جانے والے مطالعوں میں ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی کے اعداد و شمار موجود ہیں۔


تحقیق کے لیے محقیقین نےبین الاقوامی 50 سے زائد مطالعوں کے نتائج کا جائزہ لیا ہے۔ اس سروے میں دنیا بھر سے مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے ہر عمر کے لوگ شامل تھے۔ تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ سب سے زیادہ ہاتھوں کی مضبوط گرفت نوجوانوں کی تھی۔ اس لیے، محقیقین نے ہاتھوں کی سب سے زیادہ مضبوط گرفت کو دنیا بھر کے مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی حیاتیاتی عمر کے ساتھ منسلک کیا۔


تحقیق کاروں میں شامل معاون مصنف ڈاکٹر سرگوشیرباوو نے کہا کہ اس تحقیق کی بنیاد پر ہمیں معلوم ہوا کہ ایک 65 سالہ سفید فام خاتوں جو ثانوی تعلیم مکمل نہیں کر سکی تھیں ان کے ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی ایک 69 برس کی سفید فام خاتون جیسی تھی جو اعلی تعلیم یافتہ تھیں۔


ڈاکٹرسرگوشیرباوو نے کہا کہ اس نتیجے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی کے اعتبار سے دونوں خواتین کی حیاتیاتی عمر ایک جیسی تھی۔


اگرچہ 65 سالہ خاتون جو ثانوی تعلیم مکمل نہیں کر پائیں تھیں ان کی حیاتیاتی عمر میں تیزی سے چار سال کا اضافہ ہوا تھا۔ تاہم، محقیقین نے دونوں خواتین کی ایک جیسی حیاتیاتی عمر ہونےکا اصل سبب 65 سالہ خاتون کی اعلی تعلیم کے حصول سے دوری کو قرار دیا ہے۔


محقیقین نے کہا ہے کہ پچھلے کئی مطالعوں میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ لوگوں کے عمر سے متعلق حاصل ہونے والےاعداد و شمار لوگوں کی حیتیاتی عمر کا صحیح تصور فراہم نہیں کرسکتے ہیں۔


تحقیق کے معاون سربراہ ڈاکٹر شیرباوو نے کہا کہ اس تحقیق کا مقصد معاشرے میں موجود مختلف گروہوں کے لوگوں کی حیاتیاتی عمر کی پیمائش کرنا تھا، تاکہ دیکھا جاسکے کہ ایسے کونسے گروہ ہیں جن کی اصل عمر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اگر کسی گروہ میں شامل اکثریت افراد کی عمر دوسرے گروہوں کے لوگوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، تو یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ اور کیا اس ایسے لوگوں کی مدد کے لیے کوئی پالیسی یا ادارہ موجود ہے؟

XS
SM
MD
LG