رسائی کے لنکس

ہنگو دھماکے کے بعد پرامن محرم حکومت کے لئے چیلنج بن گیا


ہنگو دھماکے کے بعد پرامن محرم حکومت کے لئے چیلنج بن گیا

ہنگو دھماکے کے بعد پرامن محرم حکومت کے لئے چیلنج بن گیا

آج تین محرم ہے اور اگلے ہفتے آج ہی کے دن یوم عاشور ہوگا۔ حکومت کی جانب سے پوری پوری کوشش ہے کہ یہ مہینہ پر امن طور پر گزرے، اس کے لئے حکومت نے ہر قسم کے انتظامات بھی کئے ہیں اورنہایت سخت سیکورٹی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ان میں سے کئی اقدامات تو ایسے ہیں جو پہلے کبھی نہیں اٹھائے گئے۔۔۔ لیکن اس کے باوجود محرم سے ایک دن پہلے سے اب تک ہونے والے مسلسل بم دھماکوں نے نئے سوالات اٹھائے ہیں جن میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ کیا یہ محرم واقعی پر امن طور پر گزر سکے گا؟
چھ دسمبر کو اس مہینے یعنی محرم کا پہلا نشانہ مہمند ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر غلانئی میں واقع پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر بنا جہاں یکے بعد دیگر دو خودکش حملوں میں دس سیکیورٹی اہلکاروں اور دو صحافیوں سمیت پچاس افرادہلاک اور سترسے زائد زخمی ہو گئے ۔
ایک دن کے وقفے کے بعد آٹھ دسمبر یعنی یکم محرم کو کوہاٹ میں تیراہ بازار کے بس اسٹینڈ پر خود کش حملے میں 18 افرادجاں بحق اور 32 زخمی ہو گئے ۔ نوتاریخ کا دن پر امن گزرا لیکن دس دسمبریعنی آج ہنگوکے علاقے پاس کلے میں واقع زیر تعمیر الحسینی اسپتال پرخود کش کار بم دھماکے میں پندرہ افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہو گئے ۔
ادھر سات دسمبردو ہزار دس کووزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی خودکش حملے میں بال بال بچ گئے تاہم 4اہلکاروں سمیت 10افراد زخمی ہوگئے۔
پشاور میں امریکی قونصل جنرل جمعہ کی صبح اچانک واشنگٹن روانہ ہوگئیں جبکہ ان کی روانگی کے حوالے سے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ نے بعد ازاں اپنا موقف تبدیل کرلیا۔
پشاور میں امریکی قونصل جنرل الزبتھ روڈ جمعہ کی صبح اچانک امریکہ روانہ ہوگئیں ۔ ابتداء میں سفارتخانہ کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ انہیں طالبان کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان چھوڑ گئی ہیں، اور اب ان کی جگہ چند روز میں دوسرا قونصل جنرل تعینات کیا جائے گا۔ بعد ازاں سفارتخانہ نے موقف اختیار کیا کہ الزبتھ روڈ کی قبل از وقت امریکہ روانگی کی وجوہات کچھ اور ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتخانہ نے موقف تبدیل کیا ہے کیونکہ الزبتھ روڈ نے امریکی سفارتخانے کو طالبان کی مبینہ دھمکیوں کے بارے میں بتایا تھا جن سے وزارت داخلہ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔
ملک بھر اور بالخصوص خیبر پختونخواہ میں ایک مرتبہ پھر حکومت کیلئے دہشت گردی بڑا چیلنج بن گئی ہے اور رواں مہینے میں اب تک پشاور کے گردو نواح میں واقع شہروں میں ہونے والے خود کش حملوں میں 85 افراد جاں بحق اور 122 زخمی ہو گئے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ صوبے میں نو افراد ہلاک اور ستائیس زخمی ہو ئے ۔ دوسری جانب طالبان اب دیگر ممالک کے سفیروں کیلئے بھی بڑا خطرہ بن رہے ہیں ۔
نائن الیون کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ دہشت گردوں کا ہدف صوبہ خیبر پختونخواہ رہا جہاں آئے دن خود کش حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم نومبر دو ہزار دس میں یہ سلسلہ کسی حد تک تھم گیا تھا اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ۔ نومبر میں صوبے میں دو دھماکے ہوئے۔ پہلا دھماکا یکم نومبر کو صوابی پولیس لائنز پر خود کش حملہ کی صورت کیا گیا جس میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ29 دن بعد تیس اکتوبر کو دوسرادھماکا بنوں میں پولیس وین پر کیا گیا جس میں دو اہلکاروں سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے ۔ یہ بھی خود کش حملہ تھا۔
گیارہ نومبر کراچی کے ریڈ سیکورٹی زون میں وزیراعلیٰ ہاوٴس کے قریب واقع سی آئی ڈی پولیس سندھ کے دفتر کی عمارت سے بارود سے بھرا ٹرک ٹکرانے کے نتیجے میں ایف سی اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ایک خاتون سمیت 13 افراد ہلاک اور درجنوں خواتین اور بچوں سمیت 120 افراد زخمی ہوگئے۔
یکم نومبر کو حیدر آباد اور کوٹری کے درمیان ریلوے ٹریک پر دو بم دھماکے ہوئے ۔ دو نومبر کو حیدرآباد میرانی پھاٹک کے قریب دوسرے روز بھی ریلوے لائن کو دھماکے سے اڑادیا گیا جس سے پٹری کا تین سے چار فٹ حصہ متاثر ہوا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے قریب نصب ایک اور بم کو ناکارہ بنادیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ذکریا ایکسپریس بال بال بچ گئی جبکہ ریلوے ٹریفک معطل ہوگئی۔
تیس نومبردو ہزار دس کو گورنر بلوچستان کی گاڑی دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی تاہم اسے ناکا م بنادیا گیا۔ حملے میں محافظ زخمی ہوا اور پولیس کی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔اس کی پی ایل اے نے ذمہ داری قبول کی۔
ادھر منگچر لیویز نے ایک مشکوک کار اور ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔گورنر نواب ذوالفقارعلی مگسی قلات میں اپنی خوشدامن کی فاتحہ خوانی کے بعد کوئٹہ واپس جارہے تھے کہ منگچر بازار کے قریب چند روزقبل نذرآتش کئے گئے نیٹو کے کنٹینر میں چھپائے گئے ریموٹ کنٹرول بم کادھماکا ہوگیا ۔اس دوران نواب مگسی کی گاڑی وہاں سے بخیریت گزرچکی تھی جبکہ ان کے عقب میں آنیوالی سیکورٹی کی دو گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اوران میں سوار اے ٹی ایف کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ واقعے کے فوراً بعد منگچر لیویز اور اے ٹی ایف کے عملے نے ایک مشکوک سفید کرولا کار کوروکنے کی کوشش کی تواس میں سوار افراد فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔ لیویز اہلکاروں نے کار کا پیچھا کیا اور جوابی فائرنگ شروع کردی۔ اس پر کارسوار کار کوچھوڑ کر قریبی باغ کی جانب فرار ہوگئے۔ لیویز نے شک کی بناء پرایک شخص ہدایت اللہ سمالانی کوحراست میں لے لیا ہے۔

XS
SM
MD
LG