رسائی کے لنکس

برطانیہ: آن لائن بُلی ئینگ اور خود کشی کا رجحان


خوفزدہ ہانا اسمتھ نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ برطانیہ میں سماجی رابطے کے سائٹ استعمال کرنے والے ہر پانچ میں سے ایک بچے کو منفی پیغامات کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا ہے

برطانیہ میں انٹرنیٹ پر ڈرائے دھمکائے جانے والے بچوں میں خود کشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں ہزاروں نوجوان ایسی ویب سائٹس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، جن پر انھیں جعلی ناموں والی یا گمنام اکاؤنٹ سے توہین آمیز پیغامات موصول ہوتے ہیں۔

بعض اوقات، ان پیغامات میں بچوں کو خود کشی کرنے پر بھی آمادہ کیا جاتا ہے۔

’آن لائن بُلی ئینگ‘ یا ’سائبر بُلی ئینگ‘ میں نہ صرف ویب سائٹس کو دھونس اور دھمکی دینے کے لیے استعال کیا جارہا ہے، بلکہ اس مقصد کے لیےموبائل فون پرٹیکسٹ میسجز کے علاوہ پرانک کالز بھی کی جاتی ہیں۔

گذشتہ دنوں برطانیہ میں سائبر بلی ئینگ کے نتیجے میں اُس وقت ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جب 14 سالہ ہانا اسمتھ نے انٹرنیٹ پر مسلسل ڈرائے دھمکائے جانے پر خوفزدہ ہو کر گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کرلی۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ لیسٹر شائر سے تعلق رکھنے والی ہانا اسمتھ گذشتہ جمعے اپنے بیڈ روم سے مردہ حالت میں پائی گئی، جبکہ اس کے کمپیوٹر پر موجود سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ 'آسک ڈاٹ ایف ایم' کی پروفائل پر ایسےسینکڑوں گمنام پیغامات درج تھے جن میں اسے خود کشی کرنے پر اکسایا گیا تھا۔

ہانا کے والد ڈیوڈ اسمتھ نے ہانا کی خود کشی کا الزام ’آسک ڈاٹ ایف ایم‘ کی ویب سائٹ پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں بچے ہر روز ایسی ویب سائٹس پر جاتے ہیں جن کے لیے کسی قسم کا ضابطہٴاخلاق مقرر نہیں کیا گیا، جہاں گمنام شناخت کے ساتھ بچوں کو باآسانی ڈرایا دھمکایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی بچیوں کی والدہ نہیں ہے اور وہ خود ٹرک ڈرائیور ہیں وہ اپنی بچیوں کے مشاغل کے بارے میں پوری طرح خبر نہیں رکھ سکتے تھے۔ لیکن، وہ جانتے تھے کہ ان کی بیٹی ان دنوں اپنے میٹرک کے امتحانات کی تیاری کر رہی تھی اور اس نے کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کس اذیت سے گذر رہی ہے وہ ایک کھلنڈری اورخوش رہنے والی بچی تھی۔


ہانا کے والد نے مزید کہا کہ بہت سے ٹین ایجر بچوں کی طرح ہانا بھی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ’آسک ڈاٹ ایف ایم‘ پر جایا کرتی تھی۔ خود کشی سے ایک ماہ قبل ہانا نے سوال جواب کی ویب سائٹ پر اپنے چہرے کے دانوں (ایگزیما) کے بارے میں مشورہ مانگا تھا لیکن جواب میں بد قسمت ہانا کو اپنی پروفائل پرخود کشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے پر آمادہ کرنے کے لیے سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی۔خود کشی سے قبل ہانا نے اپنی ایک تصویر پوسٹ کی جس کے نیچے لکھا تھا کہ 'تم سمجھتی ہو کہ تم مرنا چاہتی ہو۔ لیکن، در حقیقت یہ تمھاری نجات ہے'۔

ہانا کے والد کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کشی والے روز بھی ہانا کے اکاؤنٹ پر بہت سے ایسے پیغامات دیکھے جن میں ہانا کو جان لینے یا تیزاب پی لینے پر اکسایا گیا تھا۔

ڈیوڈ اسمتھ نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ویب سائٹس بچوں کی قتل گاہیں بنتی جارہی ہیں، اُنھیں فوری طور پر بند کر دینا چاہیئے، تاکہ ان کی طرح اور بہت سے والدین اپنے بچوں سے محروم نہ ہو سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اسکولوں میں بچوں کے ساتھ دھونس یا دھمکی آمیز برتاؤ کیا جائے تو اس کی شکایت کی جا سکتی ہے۔ لیکن، آن لائن ایسی بہت سی ویب سائٹس ہیں جو برطانوی قوانین کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ہیں۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کم سن ہانا کے موت کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ،سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس بلی ئینگ کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں جنھیں جعلی ناموں یا گمنام شناخت کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لہذا، ویب سائٹس مالکان کواس سلسلے میں نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جبکہ، انھوں نے والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنے ٹین ایجر بچوں کو ایسی ویب سائٹس کا استعمال کرنے سے روکنا ہوگا جن میں معاملات پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔
’سائبر بُلی ئینگ‘ کے نتیجے میں ہانا کی خود کشی کے واقعہ پر عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں سرکاری ویب سائٹ پر ایک درخواست ڈالی گئی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ سےکیا گیا ہے کہ ’آسک ڈاٹ ایف ایم‘ اور اس جیسی دیگر ویب سائٹس سے ان کے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انھیں بند کیا جائے۔ اس آن لائن پٹیشن کے حق میں اب تک ہزاروں برطانوی والدین دستخط کرچکے ہیں۔

اس واقعہ کے نتیجے میں، لاطینی امریکہ میں قائم ویب سائٹ ’آسک ڈاٹ ایف ایم‘ شدید دباؤ میں آگئی ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لیسٹر شائر پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جن کا کہنا ہے کہ کمپنی جلد ہی گمنام اکاؤنٹ کے حامل افراد کے ناموں کی فہرست سے پولیس کو آگاہ کرے گی۔ تاہم، اس واقعہ کے رد عمل کے طور پر لاکھوں پاؤنڈ منافع بنانے والی ویب سائٹس سے برطانیہ کی بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنے اشتہارات واپس لے لیے ہیں۔

ہانا کی 16 سالہ بہن جو اسمتھ کا کہنا ہے کہ اسے اپنی بہن کی موت کے واقعہ کے بعد ویسے ہی پیغامات موصول ہو رہے ہیں جِن میں اسے بھی ہانا کی طرح خود کشی کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔

برطانیہ میں ’سائبر بُلی ئینگ‘ کے نتیجے میں خود کشی کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اب تک درجنوں ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ گذشتہ برس آئرلینڈ کے 13 سالہ ایرن اور 15 سالہ کیرا نے بھی آن تنگ کیے جانے سے پریشان ہو کر خود کشی کر لی تھی۔

نوجوانوں میں مقبول سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ’آسک ڈاٹ ایف ایم‘ اپنے60 ملین اکاؤنٹ ہولڈرز کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی شناخت ظاہر کرکے یا گمنام رہ کر بھی کسی کی پرفائل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنانے کے لیے عمر صرف تیرہ برس رکھی گئی ہے۔ ’آسک ڈاٹ ایف ایم‘ پر تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ کرنے کے علاوہ کسی بھی مسئلے کے بارے میں سوال کیا جاسکتا ہے جن کے جواب میں کوئی بھی گمنام شخص پیغام یا مشورہ دینے کا اہل ہے۔جبکہ، ڈرانے اور دھمکائے جانے کے پیغامات وصول ہونے پر اس ویب سائٹ پر گمنام شخص کو بلاک کرنے کے لیے کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔

ایک برطانوی خیراتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس استعمال کرنے والے ہر پانچ میں سے ایک بچے کو منفی اور توہین آمیز پیغامات کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
XS
SM
MD
LG