رسائی کے لنکس

خوشیاں برائے فروخت

  • جمیل اختر

خوشیاں برائے فروخت

خوشیاں برائے فروخت

آپ پیسے سے خوشی تو نہیں خرید سکتے لیکن ایسی چیزیں حاصل کرسکتے ہیں جو آپ کی زندگی میں خوشیاں لاسکتی ہیں۔

خوشی ایک احساس کا نام ہے اور اکثر احساسات گردوپیش کے تابع ہوتے ہیں۔ آپ جس ماحول میں رہتے ہیں اور جن تجربات سے گذرتے ہیں، وہ آپ کو خوشی دےبھی سکتے ہیں اورلے بھی سکتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اب یہ بات درست نہیں رہی کہ پیسہ زندگی میں خوشیاں نہیں لاتا۔ پیسے سے آپ ایسی بہت سی چیزیں لے سکتے ہیں ، جو زندگی میں مسرت کا احساس لانے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشی کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے اور یہ بھی کہ وہ کیسے حاصل ہوا ہے۔

محنت سے کمائی ہوئی ایک پینی بھی جب ہتھیلی پر آتی ہے تو وہ خوشی کا احساس جگاتی ہے اورناجائز ذرائع سے حاصل کیا جانے والا قارون کا خزانہ بھی سوائے خلش کے کچھ نہیں دیتا۔

نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خوش رہنے اور خوش و خرم زندگی گذارنے کے لیے آپ کو ایک خاص حد تک پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کی آمدنی اس سطح سے کم ہے تو اس میں اضافہ کرکے آپ اپنے لیے مزید خوشیاں خرید سکتے ہیں ۔ لیکن اگر آپ کی آمدنی اس حد سے زیادہ ہے تو پھر اس کے بعد جیسے جیسے آمدنی بڑھتی ہے، خوشی کا احساس گھٹتا جاتا ہے۔ اور پھر وہ مقام آجاتا ہے جہاں پیسے سے آپ اپنے لیے خوشیاں نہیں بلکہ پریشانیاں خریدتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ حد مختلف علاقوں اور مختلف ملکوں کے لیے مختلف ہے۔ امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں 75 ہزار ڈالر سالانہ آمدنی کے ساتھ آپ اپنے لیے بہت سی خوشیاں خرید سکتے ہیں اور ایک آسودہ اور مطمئن زندگی بسر کرسکتے ہیں۔

جب کہ اسی حوالے سے ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 50 ہزار پونڈ کی سالانہ آمدنی کے ساتھ برطانیہ میں ایک پرسکون زندگی گذاری جاسکتی ہے اور اپنے حصے کی خوشیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔

اس مطالعاتی جائزے کے مصنف امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسرانگس ڈیٹن اور ڈینیئل کین مین ہیں ۔ انہوں نے گیلپ کے تحت 2008ء اور 2009ء میں صحت ، آسودہ اور مطمئن زندگی اور روزمرہ کی خوشیوں کے بارے میں کرائے جانے والے جائزوں سے مدد لی۔ ان جائزوں میں لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ افراد سے سوالات پوچھے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق جن افراد کی آمدنی 75 ہزار ڈالر یا 50 ہزار پونڈ سالانہ سے جتنی کم تھیں ، ان کی زندگی میں سکون اور خوشیاں بھی اتنی ہی کم تھیں۔ مگر جو افراد اس سطح سے زیادہ پیسہ کمارہے تھے ،انہیں پیسہ وہ خوشی نہیں دے رہا تھا جتنی کہ وہ اس سے پہلے حاصل کرتے تھے۔

مطالعاتی ٹیم نےخوشی کے جذبات جانچنے کے لیے صفر سے 10 کا پیمانہ استعمال کیا اور سروے سے حاصل ہونے والے جوابات کو اس پیمانے پر پرکھا۔انہیں معلوم ہوا کہ آمدنی میں ایک خاص حدتک اضافہ زندگی میں خوشیاں لاتا ہے اور اس کے بعد دولت خوشی کا ذریعہ نہیں رہتی۔

جائزے کے مطابق ایک خوش باش زندگی گذارنے کے لیے جتنی دولت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بالعموم مڈل اوراپر مڈل کلاس کی آمدنی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک خاص سطح تک آمدنی میں اضافہ زندگی میں خوشیاں لاتاہے اور اس کے بعد منفی اثرات کا امکان بڑھنے لگتا ہے، جس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق جوچیزیں ہمیں خوشی دیتی ہیں ، ان میں سے اکثر پیسے کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ اب یہ کہنا درست نہیں ہے کہ خوشیاں خریدی نہیں جاسکتیں۔

آپ پیسے سے خوشیاں خرید سکتے ہیں، مگر صرف جائز ذرائع کے پیسے سے۔ اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے محنت کیجیئے۔ اور اگر آپ کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ پیسہ ہے ، تو آپ اس سے بھی خوشی حاصل کرسکتے ہیں، دوسروں میں خوشیاں بانٹ کر۔

XS
SM
MD
LG