رسائی کے لنکس

یہ تیس اپریل 1993ء کی بات ہے جب یورپین آرگنائزیشن فار نیوکلیر ریسرچ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’ورلڈ وائیڈ ویب‘ کا آغاز کر رہی ہے۔

یہ ماننا مشکل ہے کہ ہماری جدید دنیا میں بے پناہ تبدیلیاں لانے والے ’ورلڈ وائیڈ ویب‘ یا دوسرے لفظوں میں کسی بھی انٹرنیٹ ویب سائیٹ سے پہلے استعمال کیے جانے والے تین حروف ‘WWW’ کا آغاز ہوئے بیس برس مکمل ہو چکے ہیں۔

جی ہاں، یہ تیس اپریل 1993ء کی بات ہے کہ جب یورپین آرگنائزیشن فار نیوکلیر ریسرچ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’ورلڈ وائیڈ ویب‘ کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بعد میں پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ اور اب تو انٹرنیٹ اور WWW کے بغیر زندگی کا تصور ہی محال ہے۔

یورپین آرگنائزیشن فار نیوکلیر ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل رولف ہیور کہتے ہیں کہ، ’’معاشرے کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس پر انٹرنیٹ اثر انداز نہ ہوا ہو۔ تحقیقی کام سے لے کر کاروبار اور تعلیم تک ۔۔۔ ہر شعبے میں انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں، روزمرہ گفتگو اور کام کرنے کے انداز بدل ڈالے ہیں۔‘‘

یورپین آرگنائزیشن فار نیوکلیر ریسرچ سے منسلک طبعیات دان ٹم برنرز ورلڈ وائیڈ ویب کے موجد ہیں۔ ٹم برنرز کا کہنا ہے کہ جس وقت انہوں نے www کا آغاز کیا تھا، تب اس کا مقصد دنیا بھر کے ماہر ِ طبعیات کے درمیان رابطہ استوار کرنا تھا۔
XS
SM
MD
LG