رسائی کے لنکس

حقانی کے بیرون ملک سفر پر پابندی ختم


امریکہ کے لیے سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی

امریکہ کے لیے سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے امریکی قیادت کو لکھے گئے ’میمو‘ یا خط کے مبینہ خالق سابق سفیر حسین حقانی کے بیرون ملک سفر پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں نو رکنی بینچ نے پیر کو ’میمو‘ اسکینڈل کے مقدمے کی سماعت کے بعد اپنے حکم نامے میں کہا کہ حسین حقانی ملک سے باہر جا سکتے ہیں، لیکن عدالت کے طلب کرنے کی صورت میں انھیں وطن واپس آنا ہوگا۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اپنے فوری ردعمل میں سابق سفیر نے کہا ہے کہ وہ اور اُن کے وکیل متنازع مراسلے کی تحقیقات کے سلسلے میں عدالتی کمیشن سے تعاون جاری رکھیں گے۔

انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کے ایک ذریعے ’ٹوئیٹر‘ پر اپنے مختصر بیان میں اُنھوں نے کہا کہ وہ اس کمیشن کے سامنے اب تک پیش ہونے والے ’’واحد‘‘ شخص ہیں۔

’’سپریم کورٹ نے (بیرون ملک) سفر کرنے کے میرے حق کو بحال کر دیا ہے۔ اگر کوئی بھول گیا ہو، (تو میں یہ واضح کرتا چلوں کہ) شکوک و شبہات کی نفی کرنے کے لیے میں وطن واپس آ کر رضا کارانہ طور پر مستعفی ہوا تھا۔‘‘

اس سے قبل سپریم کورٹ نے میمو اسکینڈل سے متعلق دائر آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے بعد یکم دسمبر 2011ء کو حسین حقانی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سابق سفیر اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حسین حقانی اور حکمران پیپلز پارٹی متنازع مراسلے کو کاغذ کا بے وقعت ٹکڑا قرار دے کر مسترد کرتی آئے ہیں، لیکن پاکستان کی فوجی قیادت نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے بیانات حلفی میں اس کو ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے تحقیقات کی حمایت کی تھی۔

مزید برآں سپریم کورٹ نے ’میمو‘ اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی معیاد میں دو ماہ کی توسیع بھی کر دی ہے۔

پیر کو جب سماعت شروع کی تو اس کے سامنے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی ایک درخواست پیش کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے اسے مزید وقت درکار ہے جس پر عدالت نے مہلت میں توسیع کردی۔

سپریم کورٹ نے 30 دسمبر 2011ء کو میمو اسکینڈل سے متعلق آئینی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکن عدالتی کمیشن قائم کیا تھا جسے چار ہفتوں میں اپنا کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

عدالتی کمیشن کو دیا گیا وقت رواں ہفتے ختم ہو رہا تھا اور ابھی تک ممیو اسکینڈل کے اہم گواہ امریکہ شہری منصور اعجاز نے کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

پیر کو سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مقدمے کے فریقین کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعجاز کی طرف سے اُنھیں گزشتہ ہفتے کچھ دستاویزات موصول ہوئی تھیں، جن کو خفیہ رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے چیف جسٹس کے بیان پر تحفظات کا اظہار کیا۔

’’(عدالت عظمیٰ نے اپنے) فیصلے میں لکھا ہے کہ (تحقیقات) شفافیت کے لیے کر رہے ہیں … تو اس کے ہوتے ہوئے ایک شخص کی چیف جسٹس کے ساتھ یا بینچ کے ساتھ یہ خفیہ خط و کتابت کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘

عاصمہ جہانگیر نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شہری کی فراہم کردہ غیر مصدقہ دستاویزات کو خفیہ رکھنے کی بجائے ان کو ’’اہمیت ہی نہیں دینی چاہیئے‘‘۔

میمو اسکینڈل پاکستان کی سیاسی حکومت، عدلیہ اور فوج کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے، لیکن گزشتہ چند روز کے دوران سیاسی منظر نامے پر ہونے والی پیش رفت کی وجہ سے اس کشیدگی میں کمی آئی ہے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ حسین حقانی کے بیرون ملک سفر پر عائد کی گئی پابندی کے خاتمے سے حالات مزید بہتر ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG