رسائی کے لنکس

حسین حقانی اور ’میمو گیٹ‘ اسکینڈل


حسین حقانی

حسین حقانی

امریکہ میں پاکستان کےسابق سفیر حسین حقانی نےاُن پاکستانیوں اور دیگر چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے جو اُن کے ساتھ ’’بھرپور حمایت کا اظہار‘‘ کررہے ہیں۔

یہ بیان اُنھوں نے انٹرنیٹ پرمختصر پیغامات کے تبادلے کے مشہور ذریعے ’’ٹوئیٹر‘‘ کے توسط سے بدھ کی صبح جاری کیا۔

ایک روز قبل سفیر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد اپنے پیغام میں حسین حقانی نے اس مشکل ذمہ داری کو خیرباد کہنے پربظاہر سکھ کا سانس لینے کا اظہار کیا۔

’’آہ! مادر وطن میں صبح کے وقت نیند سے بیدار ہونا جب (میں) پاکستان کے مشکل ترین خارجہ تعلقات کو فروغ دینے کی ذمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد ہوں۔‘‘

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے منگل کے روز حسین حقانی سے استعفیٰ طلب کیا تھا تاکہ اُن الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جا سکیں جن کے مطابق امریکی قیادت کو بھیجے گئے صدر آصف علی زرداری سے منسوب اُس مبینہ خط کے مصنف حسین حقانی تھے جس میں فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کو برطرف کرنے کے سلسلے میں امریکہ سے مدد مانگی گئی تھی۔

یہ الزمات پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت منصور اعجاز نے لگائے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اس حوالے سے ناقابل تردید شواہد ہیں۔ لیکن حسین حقانی اس خط سے لاتعلقی کا اظہار اور الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

سابق پاکستانی سفیر نے توقع ظاہر کی ہے کہ اُن کے مستعفی ہونے سے اس اسکینڈل کا خاتمہ ہو جائے گا جسے پاکستانیوں نے ’’میمو گیٹ‘‘ کا نام دیا ہے۔ لیکن پاکستانی ذرائع ابلاغ بدستور یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ یہ سارا معاملہ صدر زرداری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

حکومت کے سیاسی مخالفین کا اصرار ہے کہ اگر پراسرار مکتوب اور حسین حقانی کے درمیان تعلق ثابت ہوتا ہے تو سابق سفیر صدر مملکت کے علم میں لائے بغیر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے۔

حسین حقانی کے حامیوں کا الزام ہے کہ خط ایک فریب تھا جس کے ذریعے ملک کا طاقتور فوجی ادارہ پاکستانی سفیر سے چھٹکارا اور زرداری حکومت اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنا چاہتا تھا۔

حکومت پاکستان نے ابتدا میں خط کے وجود سے انکار کیا تھا لیکن سابق امریکی فوجی کمانڈر ایڈمرل مائیک ملن کی طرف سے یہ مراسلہ وصول کرنے کی تصدیق کے بعد وزیر اعظم گیلانی اور صدر زرداری پر اس پورے معاملے کی تحقیقات کے مطالبات زور پکڑتے گئے جس کے نتیجے میں حسین حقانی مستعفی ہوئے اور اب اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

سابق پاکستانی سفیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بے معنی تنازع کو ختم کرنے کے لیے اُنھوں نے استعفیٰ دیا ہے کیونکہ یہ ہماری نوخیز جمہوریت کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔

’’(یہ) ایک خود غرض بزنس مین کے تحریر کردہ غیر اہم خط پر پیدا ہونے والا مصنوعی بحران تھا۔‘‘

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی سابق وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کو واشنگٹن میں حسین حقانی کی جگہ پاکستان کا نیا سفیر مقرر کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG