رسائی کے لنکس

حقانی نیٹ ورک کا تعارف


حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کی ایک فائل فوٹو

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کی ایک فائل فوٹو

روس کے خلاف لڑائی کے دوران میں جلال الدین حقانی پاکستان اور امریکہ کے اہم اتحادی تھے جن کے جنگجووں کو مبینہ طور پر 'سی آئی اے' اور 'آئی ایس آئی' نے رقم، اسلحہ اور تربیت فراہم کی تھی

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کانگریس کو ارسال کردہ ایک رپورٹ میں طالبان کے حقانی نیٹ ورک کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا عندیہ دیا ہے۔

اس اقدام کے نتیجے میں حقانی نیٹ ورک کو مالی وسائل اور کسی اور نوعیت کی اعانت کی فراہمی روکنے میں مدد ملے گی جب کہ تنظیم سے وابستہ افراد کے اثاثوں کو منجمد کیا جاسکے گا۔

حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں سرگرم طالبان کا سب سے مضبوط، موثر اور تجربہ کار گروہ قرار دیا جاتا ہے جس سے منسلک جنگجووں کی تعداد بعض اندازوں کے مطابق چار ہزار سے 10 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ گروہ کے بیشتر جنگجو افغان نژاد پشتون ہیں جب کہ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ بعض پاکستانی قبائلی اور عرب باشندے بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

گو کہ اس نیٹ ورک سے منسلک جنگجو طالبان تحریک کے سربراہ ملا عمر ہی کے ماتحت ہیں لیکن اس گروپ کو طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی سے موسوم کیا جاتا ہے جو ماضی میں افغانستان میں روس کے خلاف ہونے والے جہاد کے ایک اہم کمانڈر رہے ہیں۔

روس کے خلاف لڑائی کے دوران میں جلال الدین حقانی پاکستان اور امریکہ کے اہم اتحادی تھے جن کے جنگجووں کو مبینہ طور پر 'سی آئی اے' اور 'آئی ایس آئی' نے رقم، اسلحہ اور تربیت فراہم کی تھی۔ اس زمانے میں کمانڈر حقانی کے عربوں اور افغان مجاہدین کی مدد کرنے والے بیرونِ ملک دیگر حلقوں سے بھی قریبی تعلقات قائم تھے۔

باور کیا جاتا ہے کہ افغان جہاد میں حصہ لینے کے لیے آنے والے کئی عرب نوجوانوں نےحقانی نیٹ ورک کے تحت ہی روس کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا اور یہی تعلق آگے چل کر حقانی نیٹ ورک اور 'القاعدہ' کے درمیان قریبی تعاون کی بنیاد بنا۔

سنہ 1970 اور 80ء کی دہائیوں میں حقانی مختلف اوقات میں پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں مقیم رہے اور مقامی آبادی سے مضبوط تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں افغانستان سے روسی افواج کے انخلا کے بعد بننے والی افغان حکومت میں حقانی کو وزیرِ انصاف مقرر کیا گیا۔

افغان جہاد کے خاتمے پر ہونے والی خانہ جنگی کے ردِ عمل میں جب طالبان تحریک کا آغاز ہوا تو 1995 ء میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد جلال الدین حقانی طالبان سے جاملے اور طالبان کے اہم عسکری کمانڈر کی حیثیت اختیار کرلی۔

جلال الدین حقانی نے طالبان حکومت میں سرحدی اور قبائلی امور کے وزیر اور صوبے پکتیا کے گورنر کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔
بعض حلقے افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے خود کش حملوں کے آغاز کا سہرا بھی حقانی نیٹ ورک کے سر باندھتے ہیں


نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکہ کےحملے اور سقوطِ کابل کے بعد گمان ظاہر کیا جاتا ہے کہ جلال الدین حقانی سرحد پار کرکے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہوگئے اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔

امریکی حکام کا الزام ہے کہ جلال الدین حقانی وزیرستان سے ہی افغانستان میں تعینات امریکی افواج اور صدر حامد کرزئی کی حکومت کے خلاف طالبان کی مزاحمتی تحریک کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس میں ان کی ماتحتی میں کام کرنے والے جنگجو ہر اول دستے کا کردار ادا کر تے ہیں۔

بعض حلقے افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے خود کش حملوں کے آغاز کا سہرا بھی حقانی نیٹ ورک کے سر باندھتے ہیں جب کہ امریکی حکام افغانستان میں ہونے والے بیشتر ہلاکت خیز حملوں کا الزام حقانی نیٹ ورک کے جنگجووں پر عائد کرتے ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی پیرانہ سالی کے باعث جلال الدین حقانی عملی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں اور ان کی حیثیت اب روحانی پیشوا کی سی ہے۔ ان کی جگہ ان کے صاحبزادے سراج الدین حقانی نے سنبھال لی ہے جسے اپنے والد سے زیادہ شدت پسند قرار دیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا موقف رہا ہے کہ افغانستان کی جنوب مشرقی سرحد سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں اور پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' اس گروہ کے جنگجووں کی سرپرستی کر رہی ہے۔

امریکہ کے اس موقف کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے مسلسل امریکی مطالبےکے باوجود پاکستانی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ وہاں کسی بڑی فوجی کاروائی کرنے سے انکاری ہے۔

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے خوست، پکتیا اور پکتیکا روایتی طور پر حقانی نیٹ ورک کے مضبوط مراکز رہے ہیں لیکن امریکہ کے خلاف جاری مزاحمت کے دوران اس نیٹ ورک کے جنگجووں نے اپنا دائرہ اثر بڑھا یا ہے اور دارالحکومت کابل تک میں کئی بڑی کاروائیاں کی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں امریکہ کی جانب سے شمالی وزیرستان میں ڈرون طیاروں کے ذریعے حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کی کاروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ان حملوں سے نیٹ ورک کو خاطر خواہ نقصان ہوا ہے اور اسے اپنے کئی اہم کمانڈروں اور غیر ملکی جنگجووں سے محروم ہونا پڑا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG