رسائی کے لنکس

اوباما، لبنانی وزیر اعظم کی ہتھیاروں کی منتقلی پر بات چیت


سعد حریری

سعد حریری

پیرکو امریکی صدربراک اوباما نے لبنان کےوزیرِاعظم سعد حریری کو ضیافت دی جِس دوران مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کے بارے میں تشویش اور امن مذاکرات پر بات چیت کی گئی۔

وائیٹ ہاؤس نےایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے لبنان میں ہتھیاروں کی غیر قانونی ترسیل کے خطرے پر بات کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر اوباما نے اِس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے فرائض کی پاسدادری کو یقینی بنایا جائے۔

امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے حالیہ دِنوں میں ایران اور شام پر الزام عائد کیا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے شدت پسندوں کو جدید راکٹوں اور میزائلوں سے لیس کر رہے ہیں۔ اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ حزب اللہ کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے سکڈ میزائل دستیاب کر رہا ہے جِن سے اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

شام اور لبنان نے میزائل کی منتقلی کے بارے میں خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

وائیٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مسٹر اوباما اور مسٹرحریری نے مربوط اسرائیل فلسطین امن معاہدے کے کام کاجائزہ بھی لیا۔

اِس سے پیشتر، مسٹرحریری نے مشرق قریب کے امورکے بارے میں امریکی نائب وزیر خارجہ جیفری فیلٹمین سے ملاقات کی۔

فیلٹمین نے بتایا کہ دونوں نے اسرائیل لبنان سرحد کے ساتھ سکیورٹی کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد وں پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر گفتگو کی۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں نے جنوبی لبنان میں بین الاقوامی امن مشن کو جاری رکھنے پر بھی بات کی۔

اقوامِ متحدہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو جِس کے ذریعے2006ء کی اسرائیل، حزب اللہ جنگ کا خاتمہ لایا گیا، قرارداد کے ایک حصے کے طور پرمشن کی سائیز کو وسیع کردیا تھا۔ جنگ کےدوران حزب اللہ نےاسرائیل کےاندرہزاروں میزائل داغے۔

مسٹرحریری امریکہ کے پہلے سرکاری دورے پراِن دِنوں واشنگٹن میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG