رسائی کے لنکس

بھارتی فلموں میں ہارمونیم کا راج


بھارتی فلموں میں ہارمونیم کا راج

بھارتی فلموں میں ہارمونیم کا راج

بھارتی فلمی صنعت کو قائم ہوئے 71سال مکمل ہوگئے ۔ ان فلموں میں موسیقی کی عمر بھی فلمی صنعت جتنی ہی ہے۔کیوں کہ فلموں میں موسیقی پہلی بولتی فلم ”عالم آراء“ کے ساتھ ہی ظہور پذیر ہوئی تھی۔ دلچسپ امرہے کہ فلمی موسیقی کی کامیابی میں ہارمونیم کے سروں کا بہت اہم کردار رہا ہے ۔ یہ کردار71ء سال گزرجانے کے بعد بھی کم نہیں ہوا اور آج ”شیلا کی جوانی “جیسے جدید ترین گانے میں بھی ہارمونیم اپنی اہمیت اجاگر کرتا نظر آتا ہے۔

شاید کچھ لوگوں کو یہ سن کر نہایت تعجب ہو کہ”ہارمونیم “بھارتی ساز نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل وطن فرانس ہے۔اس حیرت کا سبب یہ ہے کہ بھارتی فلموں اور بھارتی معاشرے میں ہارمونیم اس قدر عام اور اہمیت کا باعث ہے کہ اس کے بارے میں یہ تصور ہی محال ہے کہ ہارمونیم اس خطے کا ساز نہیں ہے۔

دراصل ہارمونیم کی جڑیں بھارت کے ساتھ اس قدر مضبوطی سے جڑی ہیں کہ یہ بھارتی ساز ہی لگتا ہے۔ اس کا استعمال بھارتی فلمی موسیقی میں 1940 میں اس وقت شروع ہوا جب بھارت کی پہلی بولتی فلم” عالم آراء“کے گانے کے لئے دھنیں ترتیب دی گئیں۔اس فلم کا پہلا گیت ہارمونیم اور طبلے کی سنگت میں ہی ریکارڈ کیا گیاتھا۔

موجودہ دور میں موسیقی میں بے مثال ترقی کے باوجودہارمونیم کو اب بھی بھارتی فلمی موسیقی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ اس کا استعمال اسی طرح جاری رہے گا۔

ایک دور تھا کہ جب موسیقاروں کے لئے یہ بات ضروری سمجھی جاتی تھی کہ اسے لازماً ہارمونیم بجانا آتا ہواسی خیال کے تحت موسیقاروں نے آپس میں جوڑیاں بنائیں اور شہرت کی بلندیوں تک کا سفر طے کیا۔ شنکر اور جے کشن میں سے جے کشن زیرک ہارمونیم پلیئر تھے۔ بالکل اسی طرح لکشمی کانت اور پیارے لال میں سے پیارے لال زبردست ہارمونیم بجایا کرتے تھے۔

ہندی سنیما کے عظیم ترین موسیقاروں میں سے ایک نوشاد ، ابتدا ئی دور میں رنجیت مووی ٹون میں ہارمونیم پلیئر کی حیثیت سے کام کیا کرتے تھے۔ جب وہ اپنا موسیقی کا کیریئر شروع کرنے بمبئی آئے تو ہارمونیم ہی کی بنیاد پر وہ ہندی فلمی موسیقی کا حصہ بن گئے۔

ہارمونیم کے سروں سے سجے گیتوں کی مقبولیت
ہارمونیم کے سروں سے سجے بے شمار گیت بے پناہ عوامی پذیرائی کا سبب بنے ۔ مثلاً فلم "دوستی" کا گیت، ”کوئی جب راہ نہ پائے، میرے سنگ آئے “ یا فلم اپنا پن کا گیت ”آدمی مسافر ہے“۔

فلم ”وقت “کا نغمہ ”اے میری زہرہ جبیں، تجھے معلوم نہیں تو ابھی تک ہے حسیں اور میں جواں“
فلم” برسات کی رات“ کی قوالی ”بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی“ ۔۔۔ اور ان گیتوں اور فلموں میں ہارمونیم کا کردار بہت اہم ہے۔ اس دور میں ہارمونیم کی کامیابی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس دور کے تقریباً تمام گانے ہارمونیم کے سُروں پر ہی ترتیب دیئے جانے لگے۔

بگ بی یعنی امیتابھ بچن کے کیریئر کی اٹھان میں بھی ہارمونیم کا بڑا اہم کردار رہا ۔ فلم ”منزل “کے گیت ”رم جھم گرے ساون“،فلم "سلسلہ "کے گیت ”رنگ برسے بھیگے چنر والی“ اورفلم " چپکے چپکے" کے گیت ”سا رے گا ماپا“ میں ہارمونیم کا کرداراور اہمیت کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔

فلم " وہ سات دن "میں انیل کپور نے ابھرتے ہوئے موسیقار"پریم پرتاپ پٹیالہ والے" کا کردار اداکیا ہے اور اس کردار کی خاص پہچان اس کے گلے میں پڑا یہی ہارمونیم ہے۔

”شیلا کی جوانی“ اور ہارمونیم
ہارمونیم کا استعمال پرانے گانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ نئے گانوں میں بھی ہارمونیم کووہی اہمیت حاصل ہے جوکسی فلم میں ہیرو کو حاصل ہوتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال فلم ”تیس مار خاں“کا گانا ” شیلا کی جوانی “ہے۔ یہ ہارمونیم ہی ہے جس کی واپسی نے اس گیت کو انتہائی جدید اور آزاد خیال تاثر عطا کیا ۔ اس گیت کے آغاز اور انتروں میں ہارمونیم کے بھرپور استعمال نے پچھلی یادیں تازہ کرادی ہیں۔

مشینی آوازوں کے اس دور میں، جہاں آوازیں 'کی بورڈ' کی مرہون منت ہیں، وہاں آج کے موسیقار کوجو بھی دھن سوجھتی ہے، وہ سب سے پہلے اسے ہارمونیم پر چیک کرتا ہے کیوں کہ یہ ہارمونیم ہی ہے جو انہیں ان کا مطلوبہ معیار پورا کرتا ہے ۔

اسٹریٹ سانگز میں ہارمونیم کا استعمال
جس طرح آج کے دور کی فلموں میں آئٹم سانگز کو لازمی جز تسلیم کرلیا گیا ہے اسی طرح پچھلے دور میں اسٹریٹ سونگز کو بھی سنیما کا لازمی جزو سمجھا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ فلم" ٹیکسی ڈرائیور" سے " زنجیر "تک تقریباًہر فلم میں اسٹریٹ سونگز شامل کئے گئے۔اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسٹریٹ سانگز کا تصور ہارمونیم کے بغیرممکن ہی نہیں سمجھا جاتا تھالہذا اسٹریٹ سانگز میں کسی نہ کسی کو ہارمونیم بجاتے ہوئے ضرور دکھایا جاتا تھا۔

عام معاشرے میں ہارمورنیم کی اہمیت
بھارت میں کلاسیکل گائیکی کا آغاز ہارمونیم سے ہی ہوتا ہے۔ہارمونیم کی مقبولیت اور اس کے سروں کے ذریعے اپنی شناخت کے احساس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت میں ایسا گھر مشکل ہی سے ملتا ہے جس گھر کے کسی بھی باسی نے کبھی ہارمونیم نہ بجایا ہو۔
عام بھارتی معاشرے میں ہارمونیم کا بہت زیادہ "عمل دخل" ہے۔ ممبئی کی لغت میں ہارمونیم کو" پیٹی" اور ہارمونیم بجانے والے کو" پیٹی والا" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ روایت یوں بھی پڑی کہ ممبئی کی لوکل ٹرین میں یہی پیٹی والے گاگاکر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ٹرین اور ہارمونیم کا بھی "چولی دامن " کاساتھ ہے۔ بھارت میں عموماً لوکل ٹرین کے پہیوں کی دھک دھک کے ساتھ ہارمونیم کے سروں کوسننے کا مزہ ہی کچھ اور خیال کیا جاتا ہے۔

پھرجب یہی ٹرین ایک کے بعد ایک اسٹیشن سے گزرتی ہے تو لڑکے ،چھوٹے چھوٹے ہارمونیم اٹھائے پرانے گانوں کی دھنیں بجانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، اور مسافر انھیں اس "محنت "کے عوض پیسے دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ یہاں کا روز کا معمول بھی ہے اور اس بات کا پیمانہ بھی کہ اس ساز سے لوگوں کا تعلق کتنا گہرا ہے۔

XS
SM
MD
LG