رسائی کے لنکس

نفرت انگیز تقریر پر اہلسنت و الجماعت کے عہدیدار کو قید کی سزا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جس وقت عدالت کی طرف سے سزا سنائی گئی تو تنویر عالم فاروقی کمرہ عدالت ہی میں موجود تھے جنہیں گرفتار کرنے کے بعد راولپنڈی کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اہلسنت و الجماعت کے ایک مقامی رہنما کو نفرت انگیز تقریر پر چھ ماہ کی قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج آصف مجید اعوان اس مقدمے کی سماعت کر رہے تھے اور اُنھوں نے پیر کو یہ سزا سنائی۔

عدالت کے سامنے استغاثہ کی طرف سے دلائل میں کہا گیا کہ مفتی تنویر عالم فاروقی نے مذہبی منافرت اور اشتعال پر مبنی تقاریر کیں، جو ایک جرم ہے۔

تنویر عالم فاروقی کی طرف سے رواں سال کے اوائل میں ٹیکسلا کے علاقے میں کی گئی ایسی ہی ایک تقریر کی آڈیو ٹیپ بھی پیش کی گئی۔ ملزم کے وکیل نے اپنے موکل کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی۔

ٹیکسلا میں کی گئی تقریر کے بعد پولیس نے تنویز عالم فاروقی کو حراست میں لے کر اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، لیکن بعد ازاں اُنھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

تاہم پیر کو دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے سزا سنائی گئی۔

جس وقت عدالت کی طرف سے سزا سنائی گئی تو تنویر عالم فاروقی کمرہ عدالت ہی میں موجود تھے جنہیں گرفتار کرنے کے بعد راولپنڈی کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

پنجاب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نور خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اہلسنت و الجماعت کو کالعدم جماعت قرار دیا جا چکا ہے اور ٹیکسلا میں تقریر کے بعد تنویر عالم فاروقی نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ وہ راولپنڈی میں اہلسنت و الجماعت کے صدر ہیں۔

واضح رہے کہ اہلسنت والجماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل اورنگ زیب فاروقی کو بھی مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال 16 دسمبر کو پشاور کے ایک اسکول پر طالبان دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد ملک میں انسداد دہشت گردی کا ایک قومی لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا جس کے تحت پاکستان بھر میں دہشت گردوں اور اُن کے معاونین کے خلاف کارروائی کے علاوہ نفرت انگیز تقاریر کرنے اور منافرت پھیلانے پر مبنی مواد کی اشاعت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کرنے پر سینکڑوں مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں سے بیشتر کا اندراج صوبہ پنجاب میں کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG