رسائی کے لنکس

900 سال پرانے ٹاور آف لندن قلعے میں ایک وقت میں شاہی قیدیوں اورخطرناک جانوروں کو قید کیا جاتا تھا یہاں بھوتوں اور بدروحوں کو دیکھے جانےکا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

برطانیہ اپنے عظیم عالمی ورثےکی وجہ سے دنیا بھرمیں شہرت رکھتا ہے، تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ سینکڑوں برس پہلے کی لرزہ خیز داستانوں اور بربریت کے ہولناک قصوں کی وجہ سے لندن کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ آسیب زدہ دارالحکومت کےطور پر بھی کیا جاتا ہے۔

اگرچہ ہم سائنس کی ترقی کے دور میں زندہ ہیں لیکن آج بھی مافوق الفطرت چیزوں پریقین رکھا جاتا ہے اور لوگوں میں ماورائی مخلوق کے قصے اور کہانیوں کے حوالے سے دلچسپی پائی جاتی ہے۔ قارئین کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے ہم نے لندن کے مشہور آسیب زدہ سیاحتی مقامات کی فہرست تیارکی ہے جس کا ذکر ذیل میں ہے۔

ٹاور آف لندن : ٹاور آف لندن کا سرکاری نام عزت مآب شاہی محل یا قلعہ ہے۔ یہ قلعہ وسطی لندن میں دریائے ٹیمز کے شمالی کنارے پر واقع ہے جسے ولیم فاتح نے 1078 میں تعمیر کیا تھا۔ اس قلعے میں ایک سے زیادہ پیچیدہ عمارتیں ہیں ٹاور آف لندن ایک مشہور سیاحتی مقام ہونےکے ساتھ ساتھ آسیبی قلعے کی حیثیت سے مشہور ہے۔ یہاں ماضی کی اذیتوں کی داستانیں دفن ہیں۔

ٹاور آف لندن برطانیہ کا مشہور عقوبت خانہ، اذیت گاہ اور قید خانہ رہا ہے جہاں لوگوں کے سر قلم کئے گئے ہیں اور اذیتیں دے کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ۔ صدیوں پرانے اس قلعے میں ایک وقت میں شاہی قیدیوں اور خطرناک جانوروں کو قید کیا جاتا تھا یہاں متعدد بھوتوں اور بدروحوں کو دیکھے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ گھوسٹ تھامسن اے بیکٹ ماضی میں مبینہ طور پر قلعے میں بظاہر نظر آنے والا پہلا بھوت تھا۔ کہا جاتا ہےاس عظیم الشان قلعے کی ایک عمارت مارٹن ٹاور میں ایک ریچھ کی شکل کی بدروح کا قبضہ ہے جسے دیکھ کر ایک گارڈ خوف سے مر چکا ہے۔

یہاں ایک خونی ٹاور ہے جہاں دو شہزادوں ایڈورڈ وی اور رچرڈ کی روحوں کا بسیرا ہے جنھیں ان کے چچا ڈیوک آف گلوسٹر رچرڈ سوئم نے قتل کرا دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں بھائیوں کو ان کے کمرے میں دیکھا جاتا ہے جہاں وہ کبھی رہا کرتے تھے۔ وائٹ ٹاور میں وائٹ لیڈی کے بھوت کو ٹاور کی بالکونی پر ٹہلتا دکھائی دینے کے حوالے سے لوگوں نے اطلاع دی ہے۔ویکفیلڈ ٹاور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں ہنری ششم کے بھوت نے بسیرا کر رکھا ہے جسے ڈیوک آف گلوسٹر نے رچرڈ سوئم بننے سے قبل قتل کرایا تھا۔

ٹاور گرین کی عمارت کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ لوگوں کو پھانسی دینے کی جگہ تھی۔ کوئین این بوئلن کو کنگ ہنری ہفتم سے شادی کرنے پر گرفتار کر کے 1536 میں اسی جگہ پر ان کا سر قلم کیا گیا تھا یہاں نظر آنے والا بھوتوں میں کوئین این کا بھوت سب سے زیادہ خوفناک ہے جو سرکٹی لاش کی صورت میں قلعہ میں ٹہلتا دکھائی دیتا ہے جبکہ یہاں کا دوسرا مشہور بھوت اربیلا اسٹیوراٹ کا ہے۔ اس کے علاوہ سر قلم کی جانے والی ملکہ لیڈی جین گرے اور مارگریٹ پول کی روحوں کو بھی یہاں بھٹکتا ہوا دیکھا گیا ہے جبکہ پارلیمنٹ ہاوس کو بم سے اڑانے کی سازش کرنے والے مجرم گائے فاکس نے زندگی کے آخری ایام یہاں قید میں گزارے تھے۔

لندن برج اور مدفن : لندن برج کی سیاحت دو حصوں پر مشتمل ہے پہلے حصے میں آپ پل کے محراب کے اندر اندر پل کی تعمیر کی تاریخ کے حوالے سے دلچسپ سفر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں جبکہ دوسرے حصے کی سیر دن کے وقت بھی ایک بھیانک خواب معلوم ہوتی ہے۔ لندن برج کے زیر زمین مدفن کو 2007 میں برج کی تعمیراتی کاموں کی کھدائی کے دوران دریافت کیا گیا تھا۔ یہ ایک ظالمانہ جگہ تھی یہاں سے جرائم پیشہ افراد کی سوراخ زدہ سیکڑوں کھوپڑیاں اورطاعون زدہ لاشوں کے ڈھانچوں کا ڈھیر ملا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جیسے ہی دن کا سورج ڈھلتا ہے یہاں اصلی بھوتوں کا راج شروع ہو جاتا ہے۔ غیبی ہاتھوں میں چیزیں دیکھائی دیتی ہیں اور سرگوشیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اسے سیاحوں کی جانب سے برطانیہ کا سب سے ڈراونا مقام کہا جاتا ہے۔

جیک دا ریپر قا تل : تاریخ کے سب سے زیادہ بد نام زمانہ سیریل قاتل 'جیک دا ریپر' خونی کے نام سے مشہور ہے۔ جیک دا ریپر نے وائٹ چیپل کے آس پاس کے علاقوں میں 1888 سے 1891 تک 5 سے 11 خواتین کا قتل کیا تھا لیکن، جیک دا ریپرکبھی پکڑا نہیں گیا اور اب تک اس کی شناخت نامعلوم ہے۔ لندن کی سیاحت پر آنے والوں کے لیے جیک دا ریپر کی سفاکی اور بربریت کی داستان سنانے کا انتظام کیا جاتا ہے اور ایک خصوصی واک کے ذریعے انھیں ان مقامات کا دورہ کرایا جاتا ہے جہاں جہاں قاتل کے ہاتھوں مارے جانے والے متاثرین کی لاشیں پائی گئی تھیں۔

نیشنل میری ٹائم میوزیم :یہ میوزیم 1937 میں کنگ جارج ششم نے عوام کے لیے کھولا تھا۔ اس میوزیم میں سمندر سے جڑی انسانی یادوں کا وسیع مجموعہ موجود ہے یہاں ایک غیر معمولی تصویر ہے۔ یہ ایک کفن میں لپٹی عورت کی تصویر ہے جو سیڑھیوں پر چڑھتی ہے جبکہ ایک دوسرا بھوت وائٹ لیڈی کا ہے جو مدتوں پرانے کپڑوں میں ملبوس نظر آتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس کی آمد کے ساتھ چاروں جانب خوشبو بکھر جاتی ہے۔

بکنگھم پیلس ،میجر جان گواین کا بھوت : مورخین کہتے ہیں کہ کنگ ایڈورڈ ہفتم کے دور حکومت میں ان کے ذاتی سیکرٹری میجرجان گواین نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی تھی جس کی وجہ سے سماجی حلقوں میں ان کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ ایک دن بکنگھم پیلس کے آفس میں میجر جان نے خود کو گولی مار لی۔ کہا جاتا ہے کہ بکنگھم پیلس کے محافظ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں محل کی عمارت میں بندوق کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

سینٹ جیمس پارک ، ریڈ لیڈی بھوت : تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ اس رائل پارک میں ایک پراسرار بھوت کا بسیرا ہے۔ یہاں ایک سر کٹی لاش خونی لباس میں جھیل کے آس پاس نظر آتی ہے۔ مورخین کہتے ہیں کہ ریڈ لیڈی اٹھارویں صدی کے ایک فوجی کی بیوی تھی جسے اس کے شوہر نے اسی شاہی پارک میں سر قلم کر کے جھیل میں اس کی لاش ڈبو دی تھی۔

برٹش میوزیم : برٹش میوزیم لندن کا شمار دنیا کے چند اہم ترین عجائب گھروں میں ہوتا ہے اس عجائب گھر کا افتتاح 1753 میں ہوا یہاں دنیا کے تقریبا تمام براعظموں سے 1 کروڑ 30 لاکھ اشیاء اکھٹی کی گئی ہیں۔ برٹش میوزیم کی سیاحت کو دنیا کی تہذیبوں اور براعظموں کی تاریخ کا سفر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں کے آسیب زدہ حصے میں کولمبین ڈیتھ ماسک اور جاپانی تابوت کے علاوہ ایک کمرے میں قدیم مصری تہذیب کی یادیں 'چیپل آف نیبامون' کی قبر اور بہت سی حنوط شدہ لاشیں رکھی گئی ہیں۔

لندن کے آسیبی ٹیوب اسٹیشن : لندن میں زیر زمین آسیبی ٹیوب اسٹیشن بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ کنگ کراس اسٹیشن پر 1987آگ سے جلنے والے 31 متاثرین میں سے ایک نوجوان لڑکی کے بھوت کی سسکیاں اور چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ بیتھنل گرین کے زیر زمین اسٹیشن پر دوسری جنگ عظیم کی بمباری کے دوران کچلے جانے والے 173 لوگوں کے بھوتوں کا بسیرا ہے۔ بنک اسٹیشن پر ایک سیاہ فام راہبہ کا بھوت بھٹکتا دکھائی دیتا ہے جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ فیرنگڈن اسٹیشن پر ایک 13 سالہ نوجوان کی روح نے بسیرا کر رکھا ہے۔

کوئین الزیبتھ اسپتال فار چلڈرن : سسیکس روڈ پر واقع کوئین الزیبتھ اسپتال برائے اطفال ہیضے کی وباء پھیلنے کے بعد کھولا گیا تھا بعد میں اسپتال کی سہولتیں وائٹ چیپل اسپتال میں منتقل کر دی گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس بوسیدہ عمارت میں اب ماورائی مخلوق کا قبضہ ہے خاص طور پر سسیکس فارم جانے والے لوگوں پر یہ عمارت دہشت طاری کرنے کا سامان بنی ہوئی ہے۔

سٹی آف لندن قبرستان : 1970 میں پہلی بار لوگوں نے قبرستان کی ایک قبر سے پھوٹنے والی تیز نارنجی روشنی کے بارے میں اطلاع دی تھی تاہم بار بار تفتیش کرنے پر بھی آج تک اس روشنی کے منبع کو تلاش نہیں کیا جاسکا ہےکہ آخر یہ روشنی کہاں سے آرہی ہے۔

50 بارکلے اسکوائر : وسطی لندن میں مے فئیر کے بارکلے اسکوائر پرواقع چار منزلہ پتھر کی عمارت کو لندن کے سیاحتی اور آسیب زدہ مقام کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اس گھر کے اٹیک (بالاخانے) کو آسیب زدہ قرار دیا گیا ہے جہاں متعدد نامعلوم افراد کی اموات واقع ہوئی ہیں اور یہ سارے لوگ اسی بالا خانے میں مردہ پائے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG