رسائی کے لنکس

حسین ہزارہ گوٹھ میں قدم رکھتے ہی آپ کو یہ گماں ہوگا گویا آپ کوئٹہ آگئے ہیں۔ لوگوں کا وہی بود و باش، وہی رہن سہن اور وہی لب و لہجہ جو کوئٹہ کا خاصا ہے

کراچی کے وسط میں واقع ’حسین ہزارہ گوٹھ‘ ویسے تو شہر قائد کی سرزمین پر آباد ہے لیکن اس جگہ کا دورہ کریں تو یوں لگتا ہے گویا کوئٹہ، کراچی میں سمٹ آیا ہو۔ وہ ساری چیزیں، وہ سارا ماحول جو کوئٹہ کی خاصیت ہے وہ حسین ہزارہ گوٹھ میں جا بجا نظر آتا ہے۔ دراصل یہی اس بستی کی خاص بات اور اپنے آپ میں ایک دلچسپ پہلو رکھتی ہے۔
نام سے بھی ظاہر ہے کہ یہ’ہزارہ‘ سے تعلق رکھنے والوں کی بستی ہے۔ وہی ہزارہ کمیونٹی جو سالہاسال سے کوئٹہ میں آباد ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان پر حالیہ سالوں میں پے در پے کئی حملے ہوچکے ہیں۔ ان حملوں سے خود کو دور رکھنے کے لئے کمیونٹی کے بیشتر خاندان کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرکے دوسرے شہروں کا رخ کر گئے ہیں۔
نقل مکانی کا یہ سلسلہ بہت تیزی سے جاری ہے۔ کراچی میں بھی اب تک سینکڑوں خاندان آباد ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر افراد گلشن اقبال کے علاقے میں واقع اس بستی میں آباد ہوئے ہیں جس کا نام ’حسین ہزارہ گوٹھ‘ ہے۔
حسین ہزارہ گوٹھ میں قدم رکھتے ہی آپ کو یہ گماں ہوگا گویا آپ کوئٹہ آگئے ہیں۔ لوگوں کا وہی بود و باش، وہی رہن سہن اور وہی لب و لہجہ جو کوئٹہ کا خاصا ہے۔ حتیٰ کہ جو ایکسٹرا لارج سائز کی تندوری روٹی آپ کو کوئٹہ میں جگہ جگہ بکتی نظر آئے گی، اسی طرز کی روٹی آپ حسین ہزارہ ٹاوٴن میں دیکھیں گے۔
علاقے کی تمام دکانیں بھی کوئٹہ جیسی ہی ہیں جن میں وہیں کا بنا سامان اسی مخصوص انداز میں بکتا ملے گا۔ یہاں تک کہ ہوٹلز بھی اسی طرز کے ہیں اور ان میں رکھا ٹی وی بھی۔
اس علاقے میں فارسی زبان کی نشریات زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ لہذا، کراچی میں کہیں آپ کو ایرانی نشریات کہیں اور دیکھنے کو ملیں یا نہ ملیں یہاں ضرور ملیں گی۔
ویسے تو کوئٹہ سے کراچی آنے والی تمام بسوں کا روٹ یوسف گوٹھ تک محدود ہے لیکن ہزارہ کمیونٹی کے ذریعے خصوصی طور پر چلنے والی بسیں آپ کو بستی میں کھڑی اور آتی جاتی ضرور ملیں گی۔ بستی میں رہنے والے یا کوئٹہ سے کراچی منتقل ہونے والے زیادہ تر افراد انہی بسوں کے ذریعے یہاں آتے ہیں۔
کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ملنے والے موسمی پھل مثلاً خوبانی، آلو بخارہ، سیب وغیرہ بھی انہی گاڑیوں کے ذریعے یہاں پہنچتے ہیں۔ اس بستی میں بکنے والا کوئٹہ کا اکثر سامان بھی انہی بسوں کے ذریعے یہاں پہنچتا ہے۔
گلشن اقبال کے رہائشی سید احمر علی رضوی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ، ’حسین ہزارہ گوٹھ میں کوئٹہ کی طرح ہی آپ کو بہت سے فارسی بان ملیں گے۔ ویسے فارسی کے علاوہ بھی یہاں بلوچستان کی طرح ہی کئی زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں لیکن فارسی بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘
XS
SM
MD
LG