رسائی کے لنکس

آج کا کام کل پر چھوڑنے کے عادی لوگ دوسروں کے مقابلے میں انجانے خوف، مایوسی اور خود پہ تنقید کے زیادہ عادی ہوتے ہیں۔ اور وہ منفی سوچوں سے بچنے کےلئے اپنا دھیان دوسری طرف بٹانے کے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں: تحقیق

لوگ آج کا کام کل پر کیوں چھوڑتے ہیں؟ اِس پر ہم کل تحقیق کرینگے!

آج کا کام کل پر چھوڑنے والوں کی تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ، ’اُن کا اجلاس کبھی ہوا ہی نہیں‘۔ اور اس موضوع پر کتاب کبھی لکھی ہی نہیں گئی۔ کیونکہ، یہ کام کل پر ٹال دیا جاتا ہے۔

یہ جانتے ہوئے کہ کوئی کام کتنا اہم ہے، کیوں لوگ اسے کل کے لئے چھوڑ دیتے ہیں، اور کچھ کام وقت پر کر لیتے ہیں۔

’سائنٹیفک امیریکن مائنڈ‘ نامی جریدے کی مینیجنگ ایڈیٹر، سینڈرا اپسن لکھتی ہیں کہ آج کا کام کل پر چھوڑنے کے عادی لوگ دوسروں کے مقابلے میں انجانے خوف، مایوسی اور خود پہ تنقید کے زیادہ عادی ہوتے ہیں اور وہ منفی سوچوں سے بچنے کےلئے اپنا دھیان دوسری طرف بٹانے کے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں ۔

’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے، ماہر نفسیات ڈاکٹر سلمان کاظم نے کہا ہےکہ آج کا کام کل پہ چھوڑنا نفسیاتی نہیں انفرادی معاملہ ہے، اور یہ سستی کی نشانی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ تو قومی سوچ بن چکی ہے کہ بغیر محنت کہ سب کچھ ہماری جھولی میں آ گرے۔

کچھ کاموں کو کل پر چھوڑ دینا اور کچھ کو وقت پر کرنے کے پیچھے شاید پین پلیزر کا قانون عمل پیرا ہے۔ یہ کہنا ہے ڈاکٹر وین ڈبلیو ڈائر کا۔

مشال کے طور پر، اگر کسی کا بجلی کا بل آ چکا ہے۔ لیکن، وہ یہ سوچتا ہے کہ کو ن جائے، لائن میں لگے اور یہ بل بھرے تو وہ یہ کام کل پر ٹالتا رہے گا۔ کیونکہ، اس کام میں اسے دقت کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن، جب بل بھرنے کی آخری تاریخ آ جائے گی تو وہ شخص جا کر وہ بل بھر دے گا۔ اِس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ اب بل نہ بھرنا زیادہ دقت کا سبب بنے گا۔ کیونکہ، اس کی بجلی کٹ جائے گی اور جرمانہ بھی ہو گا۔

اُس سوچ کے مطابق، انسان ہر کام یا تو مزا، یعنی پلیژر حاصل کرنے کے لئے، کرتا ہے، تکلیف یعنی پین سے بچنے کے لئے۔
XS
SM
MD
LG