رسائی کے لنکس

ماہرین کی ’سب سے پہلے امریکہ‘ پالیسی کی تعریف

  • نفیسہ ہودبھائی

ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ یہ امریکیوں کے ساتھ زیادتی ہوگی کہ ’آئی ٹی کمپنیاں‘ باہر کے ملکوں سے ماہرین کو کم اجرت پر بلاتی ہیں۔ بقول اُن کے، امریکی ماہرین کو ملنے والی اجرت، غیر ملکی ماہرین کے مقابلے میں کم ہوتی ہے

صدر ٹرمپ نے اپنی امریکہ نواز پالیسی کو فروغ دینے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ایسی امریکی کمپنیوں کو وفاقی ٹھیکے دیے جائیں گے جو غیرملکیوں کو باہر سے بلانے کے بجائے مقامی امریکیوں کو ملازمتیں دیں گے۔

اس ’ایچ بی 1‘ ویزا پروگرام پر ڈیموکریٹک پارٹی سے سرکردہ راہنما، سینیٹر برنی سینڈرز کے حامی علی اکبر مرزا کا کہنا ہے کہ سینڈرز خود بھی اپنی انتخابی مہم میں امریکی مزدوروں کی بھلائی کو فوقیت دینے کی بات کیا کرتے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ امریکیوں کے ساتھ زیادتی ہوگی کہ ’آئی ٹی کمپنیاں‘ باہر کے ملکوں سے ماہرین کو کم اجرت پر بلاتی ہیں۔

بقول اُن کے، امریکی ماہرین کو ملنے والی اجرت، امریکی ماہرین کو ملنے والی اجرت، غیر ملکی ماہرین کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

اس ضمن میں جب ری پبلیکن پارٹی اور ٹرمپ کے حامی طلعت رشید سے پوچھا گیا آیا ٹرمپ کی اس پالیسی کی وجہ سے تیسری دنیا میں بے روزگاری اور بدحالی پھیلنے کے امکانات تو نہیں بڑھیں گے، تو اُنھوں نے کہا کہ سب سے پہلے امریکہ کو اپنی حالت درست کرنی ہوگی، جس کام کو ہر صورت میں اولیت ملنی چاہیئے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والا شخص پوری عمر پڑھائی میں گزار دیتا ہے۔ بقول اُن کے، یہ اس شخص سے بے انصافی ہوگی، جس کی نوکری اور اجرت باہر سے آنے والے لے لیتے ہیں۔

تفصیل اس آڈیو رپورٹ میں سنئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG