رسائی کے لنکس

درگا ہ خواجہ نظام الدین کے لاپتا سجادہ نشین کراچی پہنچ گئے


Asif Ali Nazami and Nazam Ali Nizami
Asif Ali Nazami and Nazam Ali Nizami

ان کی گمشدگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ اندرون سندھ کے ایسے دور دراز علاقے میں اپنے مریدوں کے پاس تھے جہاں موبائل فون کے سگنلز نہیں پہنچتے۔

افضل رحمن

الیکٹرانک میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق دہلی میں واقع درگاہ خواجہ نظام الدین اولیا کے سجادہ نشین آصف علی نظامی اور ان کے بھتیجے ناظم علی نظامی اب لاپتا نہیں ہیں بلکہ کراچی پہنچ چکے ہیں۔

ان کی گمشدگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ اندرون سندھ کے ایسے دور دراز علاقے میں اپنے مریدوں کے پاس تھے جہاں موبائل فون کے سگنلز نہیں پہنچتے۔

جو حکام ان دونوں مذہبی شخصیات کی گم شدگی کی تفتیش کر رہے تھے اب اس بارے میں تحقیقات کر یں گے کہ اندرون سندھ ان کا قیام اور مریدوں سے ملاقات کا ان کا بیان درست ہے یا نہیں۔

قبل ازیں میڈیا پر یہ خبریں آئی تھیں کہ دونوں بھارتی شخصیات لاہور اور کراچی سے لاپتا ہو گئی تھیں۔

وہ دونوں 8 مارچ کو پاکستان آئے تھے اور خبروں کے مطابق وہ سب سے پہلے بابا فرید کی درگاہ پر حاضری کے لیے گئے تھے جو لاہور سے ڈیڑھ سو کلو میٹر سے کچھ زیادہ فاصلے پر پاکپٹن کے قصبے میں واقع ہے۔اس کے بعد وہ لاہور آئے اور سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر مبینہ طور پر دیکھ گئے۔

اس کے بعد ان کی گمشدگی کی رپورٹیں منظرعام پر آنے لگیں ۔ بعض رپورٹوں کے مطابق انہیں داتا دربار سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ جب کہ پنجاب حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ علاقہ اس قدر گنجان آباد ہے کہ وہاں سے کسی کا اغوا ہوناسمجھ سے باہر ہے۔

ان کے ویزا کی نوعیت کیا تھی، اس بارے میں بھی متضاد رپورٹس شائع ہوئیں۔

پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے پاس ایسااویزا نہیں تھا جس سے انہیں پاکستان پہنچنے کے بعد تھانے میں اپنی آمد کا اندارج کرانے سے استثنا حاصل ہوتا ۔ترجمان کا کہنا ہے ان دونوں نے قواعد کے مطابق کسی متعلقہ تھانے میں اپنی آمد کا اندارج نہیں کرایا۔

دوسری طرف دہلی میں دونوں کے خاندانوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے پاس پولیس کے پاس اندراج سے استثنا والا ویزا تھا۔

اب یہ معاملہ زیر تفتیش ہے کیونکہ بھارت کی حکومت نے یہ مسئلہ سرکاری سطح پر اٹھایا ہے اور وہاں کے وزیر خارجہ نے باضابطہ طورپر پاکستان سے انہیں ڈھونڈنے کی درخواست کی تھی۔ اس لیے ، اب وفاقی حکومت تفتیش کے بعد ، جو بھی نتائج ہوں ، ان سے بھارتی حکومت کو آگاہ کرے گی۔

۔

XS
SM
MD
LG