رسائی کے لنکس

غیر متعدی بیماریاں صحت عامہ کے لیے بڑا چیلنج ہیں: عالمی ادارہ صحت


غیر متعدی بیماریاں صحت عامہ کے لیے بڑا چیلنج ہیں: عالمی ادارہ صحت

غیر متعدی بیماریاں صحت عامہ کے لیے بڑا چیلنج ہیں: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ مستقبل میں غیر متعدی بیماریاں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوں گی۔

دنیا بھر میں موٹاپے، ذیابیطس ، دل کے امراض ، سرطان اور پیچیدہ امراض کے پھیلاؤ میں اضافہ ہورہاہے۔ ان امراض کو ماضی میں کھاتے پیتے اور صاحب ثروت افراد کی بیماریاں سمجھا جاتاتھا مگر اب یہ غریب اور درمیانی آمدنی رکھنے والے ممالک میں لوگوں کی زندگیوں کے لیے ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے طورپر سامنے آرہی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اعلیٰ عہدے داروں کی سالانہ میٹنگ کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چن نے عالمی سطح پر صحت کی صورت حال کا ایک جائزہ پیش کرتے ہوئے کئی اہم مسائل کے حل کے لیے اقدامات کی اپیل کی۔

ڈاکٹر چن نے 34 رکنی بورڈ پر زور دیا کہ وہ غیر متعدی امراض کی وجوہات پر قابو پانے کے لیے کام کریں ۔ ڈائریکٹر جنرل کا کہناتھا کہ غیر متعدی امراض لہروں کی شکل میں معاشرے کواپنی لپیٹ میں لیتے ہیں، اور اس وقت زیادہ تر ترقی پذیر ممالک پیچیدہ اور انسان کی قوت مدافعت پر ضرب لگانے والے امراض کی پہلی لہر کے تجربے سے گذررہے ہیں۔

ڈاکٹر چن نے کہا کہ مثال کے طور پر اس وقت دنیا بھر میں ذیابیطس میں مبتلا لگ بھگ 34 کروڑ 60 لاکھ افراد میں نصف کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ وہ اس موذی مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے اکثر افراد کو اس وقت تک اپنے علاج کا خیال ہی نہیں آئے گاجب تک ان کا مرض شدید صورت اختیار نہیں کرلے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ عالمی ادارہ صحت ایسے اقدامات کو ترجیح دے رہاہے جن کی مدد سے ایسی کسی بھی افسوس ناک صورت حال کو پیدا ہونے سے روکا جاسکے۔

ڈاکپر چن نے نئی صدی کے پہلے عشرے میں صحت کے شعبے میں ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہاکہ ایچ ائی وی ایڈز اور تپ دق کے مریضوں میں کمی آرہی ہے۔ ملیریا کا مرض بھی اپنے زوال کی جانب بڑھ رہاہے۔ اسی طرح سب صحارا افریقہ میں کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں کم عمر بچوں کی شرح اموات میں گذشتہ ساٹھ سال کے دوران پہلی بار سالانہ ایک کروڑ کی کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں دوران زچگی ماؤں کی اموات بھی اب کم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ عالمی سطح پر اب پولیو غائب ہونے کے درجے تک پہنچ چکاہے۔ حال ہی میں بھارت نے جو پولیو سے متاثرہ چار ملکوں میں شامل ہے ، اعلان کیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران وہاں پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔

صحت کے عالمی ادارے کی سربراہ نے اپنی تقریر میں لوگوں کی آمدنیوں میں بڑھتے ہوئے عدم توازن ، اور نوجوانوں کے لیے مواقعوں کی کمی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ان معاشروں میں جہاں آمدنیوں میں تفاوت کم ہے، صحت کا عمومی معیار بہتر ہے۔ان کا کہناتھاکہ ایسی سیاسی پالیسیاں جن کے نتیجے میں امیر اور غریب کے فرق کو کم کرنے میں مدد ملے، صحت کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG