رسائی کے لنکس

ڈپریشن میں جینیاتی عوامل اور ماحول کا اثربھی ہوسکتا ہے

  • شہناز نفیس

ڈپریشن

ڈپریشن

پاکستان میں ڈپریشن کی بیماری میں اضافے کی وجہ معاشرے میں پھیلی ہوئی موجودہ بےچینی ، مایوسی اورغیر یقینی کی صورت حال ہے

کبھی کبھار دل کی اداسی یا خفگی ایسی کوئی فکر کی بات نہیں ہوتی۔

تاہم، اگر دل کی اداسی کا دورانیہ دو ہفتوں سے زیادہ طویل ہوجائے یا وقفے وقفے سے یہ کیفیت طاری ہوتی رہے، تو اِس کو ایک نفسیاتی بیماری، یعنی ’ڈپریشن‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے ایک انٹرویو میں معروف ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر زاہد عمران نے بتایا کہ اگر دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک کسی کا دل اداس ہو، مایوس کُن یا منفی خیالات آرہے ہوں، نیند نہ آرہی ہو، تھکن کا بہت زیادہ احساس ہو، خود کشی کے خیالات ذہن میں آتے ہوں اور روزمرہ کی زندگی میں دل نہ لگتا ہو تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فرد ڈپریشن میں مبتلا ہے۔

ڈاکٹرعمران کےمطابق، ڈپریشن موروثی بھی ہوسکتی ہے اور اِس میں جینیاتی عوامل اور ماحول کے عمل دخل کا امکان بھی موجود ہے۔ تاہم، اُن کےمطابق، پاکستان میں ڈپریشن کی بیماری میں اضافے کی وجہ معاشرے میں پھیلی ہوئی موجودہ بےچینی، مایوسی اورغیریقینی کی صورت حال ہے-

ڈپریشن کا علاج کیا ہے؟ اِس سوال کے جواب میں ڈاکٹر عمران کا کہنا تھا کہ اگر ڈپریشن کی نوعیت سنگین نہیں تو اِس کا علاج therapy cognitive، ورزش اور meditation سے کیا جا سکتا ہے– تاہم، اُن کے مطابق، اگر بیماری شدت اختیار کرلے، تو پھر، اِس کا علاج دوائیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG