رسائی کے لنکس

اسٹریس کی سطح کو کم رکھنے سے ڈپریشن سے بچا جا سکتا ہے: ڈاکٹر چیمہ

  • خالد حمید

اسٹریس کی سطح کو کم رکھنے سے ڈپریشن سے بچا جا سکتا ہے: ڈاکٹر چیمہ

اسٹریس کی سطح کو کم رکھنے سے ڈپریشن سے بچا جا سکتا ہے: ڈاکٹر چیمہ

ڈاکٹر رؤف چیمہ وِنچسٹرورجینا میں ایک معروف پاکستانی امریکن نفسیات داں ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اسٹریس (اعصابی خلل کے مرض) کی سطح کو کم رکھنےسے’ڈپریشن‘ سے بچا جا سکتا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سےگفتگو میں ڈاکٹر چیمہ نے اِس بیماری کی علامات کےبارے میں بتا تے ہوئے کہا کہ کئی بار اِس کی وجہ کوئی پریشانی ہوتی ہے، مثلاً خاندان میں کوئی فوتگی ہوجانا، طلاق ہوجانا، کوئی مالی پریشانی لاحق ہونا، وغیرہ۔ ’اِس سے بچنےکا بہترطریقہ یہ ہے کہ اپنے اسٹریس کی لیول کو کم رکھا جائے۔ جس بھی وجہ سے آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو کوئی ایسی صورت حال درپیش ہے جس کا آپ سامنا نہیں کر پا رہے ہیں: آپ پر بہت زیادہ دباؤ پڑرہا ہے، اُس سے آپ کا ڈپریشن شروع ہوجاتا ہے یا زیادہ ہوجاتا ہے ۔‘

ڈاکٹر چیمہ نے بتایا کہ ڈپریشن ایسی بیماری ہے کہ کئی دفعہ بغیر وجہ بھی انسان مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے: مثلاً، ایک انسان کی فیملی لائف سب کچھ ٹھیک چل رہی ہے، نوکری ٹھیک چل رہی ہے، لیکن پھر بھی ڈپریشن ہوجاتا ہے۔

’ایسے میں اُن کے مغز کے رسیپٹرز، آؤٹ آف بیلنس ہوجاتے ہیں۔ اُس کی خاص وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اُس طرح کی بیماریاں فیملیوں میں چلتی ہیں جیسےکسی کےماں باپ، بھائی بہن کو ڈپریشن تھا۔ ذیابیطس، بلڈ پریشر یا اِس قسم کی بیماریاں خاندانوں میں چلتی ہیں، جس کی وجہ جنیٹکس یا پھر ماحولیاتی اسٹریس کے باعث ڈپریشن ہوسکتا ہے۔ ‘

اُنھوں نے کہا کہ اِس سے بچنے کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ اسٹریس کم سے کم رکھا جائے، جس میں ورزش ، اچھا روٹین اپنانا، صحت مند کھانے کا استعمال اور اچھی نیندسونا شامل ہیں۔ پھر یہ کہ سات سے آٹھ گھنٹے کام کرنے کی جگہ کئی لوگ 12سے14گھنٹے کام کرتے ہیں اور اِس طرح ’اسٹریس آؤٹ ہوجاتے ہیں‘، اور بالآخر، یہ ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر’کریش‘ کرجاتے ہیں۔

اِس لیے، ڈاکٹر چیمہ کا مشورہ تھا کہ اِن باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے، تاکہ آپ اپنےآپ کو جذباتی اور جسمانی طور پر ’اوور اسٹریس ‘نہ کرلیں۔ اُن کے الفاظ میں، ’جب آپ جسمانی صحت اور جذباتی صحت کا خیال رکھیں گے تو اُس سے ڈپریشن ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔‘

تفصیل کے لیےآڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG